بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي عَسِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 20766 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ ، أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ يَعْنِي الْجَوْنِيَّ ، عَنْ أَبِي عَسِيبٍ أَوْ أَبِي عَسِيمٍ ، قَالَ بَهْزٌ:" أَنَّهُ شَهِدَ الصَّلَاةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ؟ قَالَ:" ادْخُلُوا أَرْسَالًا أَرْسَالًا"، قَالَ:" فَكَانُوا يَدْخُلُونَ مِنْ هَذَا الْبَابِ، فَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنَ الْبَابِ الْآخَرِ"، قَالَ: فَلَمَّا وُضِعَ فِي لَحْدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ:" قَدْ بَقِيَ مِنْ رِجْلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يُصْلِحُوهُ"، قَالُوا: فَادْخُلْ فَأَصْلِحْهُ، فَدَخَلَ وَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَمَسَّ قَدَمَيْهِ، فَقَالَ:" أَهِيلُوا عَلَيَّ التُّرَابَ"، فَأَهَالُوا عَلَيْهِ التُّرَابَ حَتَّى بَلَغَ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَكَانَ يَقُولُ" أَنَا أَحْدَثُكُمْ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز جنازہ کے وقت مدینہ منورہ میں موجود تھے لوگ کہنے لگے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز جنازہ کس طرح پڑھیں حضرت صدیق اکبر نے فرمایا کہ ایک گروہ ایک گروہ کی شکل میں داخل ہوں چنانچہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درود وسلام پڑھتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبر میں اتارا گیا تو حضرت مغیرہ کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں مبارک کی جانب کچھ حصہ رہ گیا ہے جسے صحیح نہیں کیا گیا لوگوں نے کہا پھر آپ ہی قبر میں اتر کر صحیح کردیں چنانچہ وہ قبر میں اترے اور اپنا ہاتھ قبر میں ڈالا جب قدم مبارک کو چھوا تو کہنے لگے کہ آج میری طرف سے مٹی ڈالو لوگوں نے مٹی ڈالنا شروع کردی یہاں تک کہ وہ ان کی آدھی پنڈلیوں تک پہنچ گیا۔ پھر وہ باہر نکلے اور کہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب کا زمانہ مجھے ملا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20766]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20767 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو نُصَيْرَةَ ، أَبَا عَسِيبٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو نُصَيْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَسِيبٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِالْحُمَّى وَالطَّاعُونِ، فَأَمْسَكْتُ الْحُمَّى بِالْمَدِينَةِ، وَأَرْسَلْتُ الطَّاعُونَ إِلَى الشَّامِ، فَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِأُمَّتِي، وَرَحْمَةٌ وَرِجْسٌ عَلَى الْكَافِرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے بعد جبرائیل بخار اور طاعون کو لے کر آئے میں نے بخار کو مدینہ منورہ ہی میں روک لیا اور طاعون کو شام کی طرف بھیج دیا اب طاعون میری امت کے لئے شہادت اور رحمت ہے اور جب کہ کافروں کے لئے عذاب ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20767]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20768 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، حَشْرَجٌ ، أَبِي نُصَيْرَةَ ، أَبِي عَسِيبٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ ، عَنْ أَبِي نُصَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي عَسِيبٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي، فَدَعَانِي إِلَيْهِ فَخَرَجْتُ، ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ، فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: لِصَاحِبِ الْحَائِطِ" أَطْعِمْنَا بُسْرًا"، فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ فَأَكَلَ، فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ، فَشَرِبَ، فَقَالَ:" لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَئِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ كَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهُ، أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ، أَوْ حَجَرٍ يَتَدَخَّلُ فِيهِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقُرِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے نکلے تو میرے پاس سے گذرتے ہوئے مجھے بھی بلا لیا میں ہمراہ ہولیا پھر حضرت ابوبکر کی طرف گذرے تو انہیں بھی بلالیا وہ بھی ساتھ ہولیے پھر حضرت عمر کے پاس سے گزرے تو انہیں بھی بلالیا وہ بھی ساتھ ہولیے چلتے چلتے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکرم ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے اور باغ کے مالک سے کہا ہمیں کچی پکی کھجوریں کھلاؤ وہ ایک خوشہ لے کر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رکھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ساتھیوں نے اسے تناول فرمایا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ٹھنڈا پانی منگوا کر وہ نوش فرمایا اور فرمایا کہ قیامت کے دن تم سے اس کے متعلق بھی سوال ہوگا یہ سن کر حضرت عمر نے وہ خوشہ پکڑا اور زمین پردے مارا جس سے کھجوروں کے دانے بکھر گئے اور ان سے کچھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف بھی چلے گئے پھر وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ قیامت کے دن ہم اس کے متعلق بھی پوچھا جائے گا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں سوائے تین چیزوں کے ایک وہ کپڑا جس سے آدمی اپنی شرمگاہ کو چھپائے روٹی کا وہ ٹکڑا جس سے اپنی بھوک مٹائے یا وہ سوراخ جس میں گرمی، سردی سے بچاؤ کے وہ داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20768]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن