بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، أَبُو رِفَاعَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو رِفَاعَةَ ، انْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ، لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ!! قَالَ:" فَأَقْبَلَ إِلَيَّ، فَأَتَى بِكُرْسِيٍّ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى"، قَالَ: ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ فَأَتَمَّ آخِرَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابورفاعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے میں نے عرض کی یا رسول اللہ ایک مسافر آپ کے پاس اپنے دین کے متعلق پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہو جو اپنے دین کے متعلق کچھ نہیں جانتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور ایک کرسی لائی گئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر بیٹھ گئے اور مجھے وہ باتیں سکھانے لگے جو اللہ نے انہیں سکھائی تھیں پھر اپنے خطبے کی طرف آئے اور اسے مکمل کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20753]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 876
الحكم: إسناده صحيح، م: 876