بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 20732 مسند احمد
حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، عَزْرَةُ الْأَنْصَارِيُّ ، عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، أَبُو زَيْدٍ
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَزْرَةُ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْتَرِبْ مِنِّي"، فَاقْتَرَبْتُ مِنْهُ، فَقَالَ" أَدْخِلْ يَدَكَ، فَامْسَحْ ظَهْرِي"، قَالَ: فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي قَمِيصِهِ، فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ، فَوَقَعَ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ بَيْنَ إِصْبَعَيَّ، قَالَ: فَسُئِلَ عَنْ خَاتَمِ النُّبُوَّةِ؟ فَقَالَ: " شَعَرَاتٌ بَيْنَ كَتِفَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوزید انصاری فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میرے قریب آؤ میں قریب ہوا تو فرمایا اپنے ہاتھ کو ڈال کر میری کمر کو چھو کر دیکھو چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قیمص میں ہاتھ ڈال کر پشت مبارک پر ہاتھ پھیرا تو مہر نبوت میری دو انگلیوں کے درمیان آگئی جو بالوں کا ایک گچھا تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20732]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 20733 مسند احمد
حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عِلْبَاءُ بْنُ أَحْمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْنُ مِنِّي"، قَالَ: فَمَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ، وَأَدِمْ جَمَالَهُ"، قَالَ: فَلَقَدْ بَلَغَ بِضْعًا وَمِائَةَ سَنَةٍ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ بَيَاضٌ، إِلَّا نَبْذٌ يَسِيرٌ، وَلَقَدْ كَانَ مُنْبَسِطَ الْوَجْهِ، وَلَمْ يَنْقَبِضْ وَجْهُهُ حَتَّى مَاتَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوزید سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میرے قریب آؤ پھر میرے سر اور داڑھی پر اپنا دست مبارک پر پھیرا اور یہ دعا کی کہ اے اللہ اسے حسن و جمال عطا فرما اور اس کے حسن کو دوام عطا فرما۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوزید کی عمر سو سال سے بھی اوپر ہوئی لیکن ان کے سر اور ڈارھی کے چند بال ہی سفید تھے اور آخردم تک وہ ہمیشہ مسکراتے ہی رہے اور کبھی ان کے چہرے پر انقباض کی کیفیت نہیں دیکھی گئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20733]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20734 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، خَالِدٌ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا، فَوَجَدَ قُتَارًا، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا الَّذِي ذَبَحَ؟" قَالَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ هَذَا يَوْمًا الطَّعَامُ فِيهِ كَرِيهٌ، فَذَبَحْتُ لِآكُلَ، وَأُطْعِمَ جِيرَانِي، قَالَ:" فَأَعِدْ"، قَالَ: لَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ مِنَ الضَّأْنِ، أَوْ حَمَلٌ، قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَاتٍ، قَالَ:" فَاذْبَحْهَا، وَلَا تُجْزِئُ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوزید انصاری سے مروی ہے کہ عیدالاضحی کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھروں کے درمیان سے گذر رہے تھے کہ آپ کو گوشت بھونے جانے کی خوشبو محسوس ہوئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس نے جانور ذبح کیا ہے ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور عرض کیا یا رسول اللہ اس دن کھانا ایک مجبوری ہوتا ہے سو میں نے بھی اپنا جانور ذبح کرلیا تاکہ خود بھی کھاؤں اور اپنے ہمسایوں کو بھی کھلاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی دوبارہ کرو اس نے کہا اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں میرے پاس تو بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے یا حمل ہے۔ اس نے یہ جملہ تین مرتبہ کہا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کو ذبح کرلو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کی طرف سے کفایت نہیں کرسکے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20734]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: من الضأن أو حمل وهو خطأ، وهذا إسناد ضعيف، فيه عمرو بن بجدان مجهول، وقد اختلف فيه على خالد
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: من الضأن أو حمل وهو خطأ، وهذا إسناد ضعيف، فيه عمرو بن بجدان مجهول، وقد اختلف فيه على خالد