عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَبِي تَمِيمَةَ ، رَجُلٍ ، رِدْفِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ ، عَنْ رِدْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ رِدْفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ عَلَى حِمَارٍ، فَعَثَرَ، فَقَالَ الَّذِي خَلْفَهُ تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَقَالَ: " لَا تَقُلْ تَعِسَ الشَّيْطَانُ، فَإِنَّكَ إِذَا قُلْتَ تَعِسَ الشَّيْطَانُ، تَعَاظَمَ وَقَالَ بِعِزَّتِي صَرَعْتُكَ، وَإِذَا قُلْتَ بِسْمِ اللَّهِ، تَصَاغَرَ حَتَّى يَصِيرَ مِثْلَ ذُبَابٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے گدھے پر سوار تھا اچانک گدھا بدک گیا میرے منہ سے نکل گیا کہ شیطان برباد ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ نہ کہو کیونکہ جب تم یہ جملہ کہتے ہو تو شیطان اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی طاقت سے پچھاڑا ہے اور جب تم " بسم اللہ " کہوگے تو وہ اپنی نظروں میں اتنا حقیر ہوجائے گا کہ مکھی سے بھی چھوٹا ہوجائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20690]
الحكم: إسناده صحيح