بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 20672 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْحَسَنَ ، عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ شَيْءٌ، فَأَعْطَاهُ نَاسًا، وَتَرَكَ نَاسًا وَقَالَ جَرِيرٌ: أَعْطَى رِجَالًا، وَتَرَكَ رِجَالًا قَالَ: فَبَلَغَهُ عَنِ الَّذِينَ تَرَكَ أَنَّهُمْ عَتِبُوا، وَقَالُوا: قَالَ: فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي أُعْطِي نَاسًا، وَأَدَعُ نَاسًا، وَأُعْطِي رِجَالًا، وَأَدَعُ رِجَالًا قَالَ عَفَّانُ: قَالَ: ذِي وَذِي وَالَّذِي أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذي أُعْطِي، أُعْطِي أُنَاسًا لِمَا فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْجَزَعِ وَالْهَلَعِ، وَأَكِلُ قَوْمًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ، مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ"، قَالَ: وَكُنْتُ جَالِسًا تِلْقَاءَ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی چیز آئی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دے دیا اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیا بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھوڑ دیا ہے وہ کچھ خفا ہیں اور باتیں کررہے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ میں کچھ لوگوں کو دے دیتا ہوں اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں حالانکہ جسے چھوڑ دیتا ہوں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جسے دیتا ہوں میں کچھ لوگوں کو صرف اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دل بےصبری سے اور بخل سے لبریز ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اس غنا اور خیر کے حوالے کردیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہوتی ہے ان ہی میں سے عمرو بن تغلب بھی ہے میں اس وقت بالکل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے پسند نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس کلمے کے عوض مجھے سرخ اونٹ بھی ملیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20672]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 923
الحكم: إسناده صحيح، خ: 923
حدیث نمبر: 20673 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، الْحَسَنَ ، عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي أُعْطِي أَقْوَامًا، وَأَرُدُّ آخَرِينَ، وَالَّذِينَ أَدَعُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِينَ أُعْطِي، أُعْطِي أَقْوَامًا لِمَا أَخَافُ مِنْ هَلَعِهِمْ وَجَزَعِهِمْ، وَأَكِلُ أَقْوَامًا إِلَى مَا جَعَلَ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ مِنَ الْغِنَى وَالْخَيْرِ، مِنْهُمْ عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ"، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو: فَوَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِكَلِمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمْرَ النَّعَمِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں کچھ لوگوں کو دے دیتا ہوں اور کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتا ہوں حالانکہ جسے چھوڑ دیتا ہوں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے جسے دیتا ہوں میں کچھ لوگوں کو صرف اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دل بےصبری سے اور بخل سے لبریز ہوتے ہیں اور کچھ لوگوں کو اس غنا اور خیر کے حوالے کردیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں پیدا کی ہوتی ہے ان ہی میں سے عمرو بن تغلب بھی ہے میں اس وقت بالکل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے پسند نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس کلمے کے عوض مجھے سرخ اونٹ بھی ملیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20673]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 923
الحكم: إسناده صحيح، خ: 923
حدیث نمبر: 20674 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، الْحَسَنَ ، عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُقَاتِلُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ، وَلَتُقَاتِلُنَّ قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہونگے اور تم ایک ایسی قوم سے بھی قتال کروگے کہ جن کے چہرے چیٹی ہوئی کمانوں کی طرح ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20674]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2927
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2927
حدیث نمبر: 20675 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْحَسَنُ ، عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جن کے چہرے چپٹی ہوئی کمانوں کی طرح ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20675]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20676 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرٌ ، الْحَسَنِ ، عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا أَقْوَامًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20676]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2927
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2927
حدیث نمبر: 20677 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْحَسَنَ ، عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ ، قَالَ: سَمَعَتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا، نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ أَوْ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ، وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن تغلب سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے تم ایک ایسی قوم سے قتال کروگے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہونگے اور تم ایک ایسی قوم سے بھی قتال کروگے کہ جن کے چہرے چیٹی ہوئی کمانوں کی طرح ہونگے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20677]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2927
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2927