هُشَيْمٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، رَجُلٌ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ ذِي قَرَابَةٍ لَهُ مُقْتَرِنًا بِهِ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا هَذَا؟" قَالَ: إِنَّهُ نَذْرٌ، فَأَمَرَ بِالْقِرَانِ أَنْ يُقْطَعَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک قریبی رشتہ دار کے ساتھ اس طرح حج کیا کہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو رسی سے باندھا ہوا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا تو پوچھا یہ کیا بتایا کہ اس نے منت مانی تھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رسی کو کاٹنے کا حکم دے دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20589]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل البدوي وأبيه وجده
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل البدوي وأبيه وجده