بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 39
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 20560 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كَهْمَسٌ ، ابْنُ بُرَيْدَةَ ، ابْنُ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مُغَفَّلٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، لِمَنْ شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر دواذانوں کے درمیان نماز ہے جو چاہے پڑھ لے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20560]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 624، م: 838
الحكم: إسناده صحيح، خ: 624، م: 838
حدیث نمبر: 20561 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، كَهْمَسٌ ، ابْنُ بُرَيْدَةَ ، ابْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ ، حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: رَأَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ، فَقَالَ لَا تَخْذِفْ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَكْرَهُ الْخَذْفَ أَوْ قَالَ يَنْهَى عَنْهُ، كَهْمَسٌ يَقُولُ ذَلِكَ فَإِنَّهَا لَا يُنْكَأُ بِهَا عَدُوٌّ، وَلَا يُصَادُ بِهَا صَيْدٌ، وَلَكِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ، وَتَكْسِرُ السِّنَّ"، ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَخْذِفُ، فَقَالَ: أُخْبِرُكَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْخَذْفِ أَوْ يَكْرَهُهُ ثُمَّ أَرَاكَ تَخْذِفُ! لَا أُكَلِّمُكَ كَلِمَةً كَذَا وَكَذَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن مغفل کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے کسی ساتھی کو دیکھا کہ وہ کنکریاں مار رہا تھا انہوں نے اس سے فرمایا کہ ایسا مت کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو کنکری سے مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے دشمن نہ زیر ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی شکار پکڑا جاسکتا ہے البتہ اس سے دانت ٹوٹ سکتا ہے اور کسی کی آنکھ پھوٹ سکتی ہے کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دوبارہ کنکریوں سے مارتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ میں نے تم کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کی تھی اور پھر بھی تمہیں وہی کام کرتے ہوئے دیکھتاہوں آج کے بعد میں تم سے کوئی بات اس طرح نہیں کروں گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20561]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4841، م: 1954
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4841، م: 1954
حدیث نمبر: 20562 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، وَلَكِنِ اقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کتے بھی ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کی نسل کو ختم کرنے کا حکم دیتا لہذا جو انتہائی سیاہ کتا ہو اسے قتل کردیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20562]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20563 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، مَعْمَرٌ ، أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، حَدَّثَنِي أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبُولَ الرَّجُلُ فِي مُسْتَحَمِّهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حمام میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ عام طور پر وسوسے کی بیماری اسی سے لگتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20563]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: فإن عامة الوسواس منه وهو موقوف، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: فإن عامة الوسواس منه وهو موقوف، وهذا إسناد ضعيف، الحسن البصري مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20564 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، الْحَسَنَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ ، قَالَ: سَأَلَتُ الْحَسَنَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَّخِذُ الْكَلْبَ فِي دَارِهِ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں ان کے اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20564]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل الحكم بن عطية، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد لأجل الحكم بن عطية، لكنه توبع
حدیث نمبر: 20565 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ عَلَى نَاقَتِهِ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ"، قَالَ: فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ وَرَجَّعَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا النَّاسُ لَأَخَذْتُ لَكُمْ بِذَاكَ الَّذِي ذَكَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ، أَوْ حَمَلَهُ عَلَى نَاقَتِهِ، قَالَ: فَقَرَأَ سُورَةَ الْفَتْحِ فَرَجَّعَ فِيهَا، قَالَ أَبُو إِيَاسٍ: لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَرَجَّعْتُ كَمَا رَجَّعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فتح مکہ کے موقع پر قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا تھا اگر لوگ میرے پاس مجمع نہ لگاتے تو میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انداز میں پڑھ کر سناتا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت فتح کی تلاوت فرمائی تھی معاویہ بن قرہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے بھی مجمع لگ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو تمہیں تمہارے سامنے حضرت عبداللہ بن مغفل کا بیان کردہ طرز نقل کرکے دکھاتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس طرح قرأت فرمائی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20565]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7540، م: 794
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7540، م: 794
حدیث نمبر: 20566 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، مُطَرِّفًا ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا لَكُمْ وَلِلْكِلَابِ"، ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ، وَقَالَ فِي الْإِنَاءِ: " إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ اغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَعَفِّرُوهُ فِي الثَّامِنَةِ بِالتُّرَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابتداءً کتوں کو مارنے کا حکم دیا تھا پھر بعد میں فرمادیا کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے اور شکاری کتے اور بکریوں کے ریوڑ کی حفاظت کے لئے کتے رکھنے کی اجازت دے دی۔ اور فرمایا کہ جب کسی برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے مانجھا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 280
الحكم: إسناده صحيح، م: 280
حدیث نمبر: 20567 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: " دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَنَزَوْتُ وَأَخَذْتُهُ، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ خیبر کے موقع پر مجھے چمڑے کا ایک برتن ملا جس میں چربی تھی میں نے اسے پکڑ کر اپنی بغل میں رکھ لیا اچانک میری نظر پڑی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے اس پر مجھے شرم آگئی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20567]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3153، م: 1772
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3153، م: 1772
حدیث نمبر: 20568 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبِ غَنَمٍ، أَوْ كَلْبِ زَرْعٍ، فَإِنَّهُ يُنْتَقَصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں جو کھیت یا شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو ان کی اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20568]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20569 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حمام میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ عام طور پر وسوسے کی بیماری لگتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20569]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: فإن عامة الوسواس منه فهو موقوف، وهذا الإسناد منقطع، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: فإن عامة الوسواس منه فهو موقوف، وهذا الإسناد منقطع، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20570 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، فَخَذَفَ رَجُلٌ عِنْدَهُ مِنْ قَوْمِهِ... فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ قَرِيبًا لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ فَنَهَاهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20570]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4841، م: 1954، وهذا إسناد منقطع بين سعيد ابن جبير وعبدالله بن مغفل
الحكم: حديث صحيح، خ: 4841، م: 1954، وهذا إسناد منقطع بين سعيد ابن جبير وعبدالله بن مغفل
حدیث نمبر: 20571 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ، لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ، وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ أَوْ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کتے بھی ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کی نسل کو ختم کرنے کا حکم دیتا لہذا جو انتہائی سیاہ کتا ہو اسے قتل کردیا کرو۔ جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں جو کھیتی یا شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو ان کے اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ سکتے ہو لیکن اونٹوں کے ریوڑ میں نہیں کیونکہ ان کی پیدائش شیطان سے ہوئی ہے۔ (ان کی فطرت میں شیطانیت ہے) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20571]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20572 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نمازی کے آگے سے عورت، کتا یا گدھا گذر جانے سے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20572]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20573 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ صُهْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ، وَلَا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا تَفْقَأُ الْعَيْنَ، وَتَكْسِرُ السِّنَّ" ، وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً:" لَا يُصَادُ بِهَا صَيْدٌ، وَلَا يُنْكَأُ بِهَا عَدُوٌّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی کو کنکری سے مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ اس سے دشمن زیر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی شکار پکڑا جاسکتا ہے البتہ اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے اور آنکھ پھوٹ سکتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20573]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4841، م: 1954
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4841، م: 1954
حدیث نمبر: 20574 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، وَكَهْمَسٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، وَكَهْمَسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عِنْدَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، عِنْدَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، عِنْدَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، لِمَنْ شَاءَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے جو چاہے پڑھ لے (دو مرتبہ فرمایا)۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20574]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 624، م: 838
الحكم: إسناده صحيح، خ: 624، م: 838
حدیث نمبر: 20575 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَشْعَثُ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ انْتَظَرَ حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا، فَلَهُ قِيرَاطَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنازے کے ساتھ جائے اور نماز جنازہ پڑھے تو اسے ایک قیراط ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت کا انتظار کرے اسے دو قیراط ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20575]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، الحسن مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 20576 مسند احمد
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ، وَلَا زَرْعٍ، وَلَا غَنَمٍ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے رکھتے ہیں جو کھیت یا شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو ان کے اجروثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20576]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20577 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، فُضَيْلُ بْنُ زَيْدٍ الرَّقَاشِيُّ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ أَبُو زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، حَدَّثَنِي فُضَيْلُ بْنُ زَيْدٍ الرَّقَاشِيُّ ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ غَزَا مَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَبْعَ غَزَوَاتٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ مَا حُرِّمَ عَلَيْنَا مِنَ الشَّرَابِ؟ قَالَ: الْخَمْرُ، قَالَ: فَقُلْتُ: هَذَا فِي الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: لَا أُخْبِرُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مُحَمَّدًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ رَسُولَ اللَّهِ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِمَّا أَنْ يَكُونَ بَدَأَ بِالرِّسَالَةِ أَوْ يَكُونَ بَدَأَ بِالِاسْمِ، فَقُلْتُ شَرْعِي، بِأَنِّي اكْتَفَيْتُ، قَالَ: فَقَالَ: " نَهَى عَنِ الْحَنْتَمِ، وَهُوَ الْجَرُّ، وَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَهُوَ الْقَرْعُ، وَنَهَى عَنِ الْمُزَفَّتِ، وَهُوَ مَا لُطِّخَ بِالْقَارِ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ، وَنَهَى عَنِ النَّقِيرِ"، قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَاكَ اشْتَرَيْتُ أَفِيقَةً، فَهِيَ هُوَ ذَا مُعَلَّقَةٌ يُنْبَذُ فِيهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مغفل کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکرہ شروع ہوگیا اور حضرت عبداللہ کہنے لگے کہ شراب حرام ہے میں نے پوچھا کہ کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے انہوں نے فرمایا کہ تمہارا کیا مقصد ہے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے میں نے حنتم کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا میں نے مزفت کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا برتن اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نقیر سے منع فرمایا ہے۔ جب میں نے یہ حدیث سنی تو میں نے دباغت دی ہوئی کھال کا برتن خرید لیا یہ دیکھو وہ لٹک رہا ہے اسی میں نبیذ بنائی جاتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20578 مسند احمد
سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ الْحَذَّاءُ التَّمِيمِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ الْحَذَّاءُ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ أَوْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن مغفل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے صحابہ کے بارے میں کچھ کہنے سے اللہ سے ڈرو میرے پیچھے میرے صحابہ کو نشان طعن مت بنانا جو ان سے محبت کرتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے نفرت کرتا ہے وہ مجھ سے نفرت کی وجہ سے ان سے نفرت کرتا ہے جو انہیں ایذاء پہنچاتا ہے وہ مجھے ایذاء پہنچاتا ہے اور جو مجھے ایذاء پہنچاتا ہے وہ اللہ کو ایذاء پہنچاتا ہے اللہ اسے عنقریب ہی پکڑ لے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20578]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن زياد أو عبدالرحمن بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن زياد أو عبدالرحمن بن عبدالله