بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 11
حدیث نمبر: 20361 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، أَبِيهِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ، فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، وَلَنْ تَزَالَ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی اور میرے کچھ امتی قیام قیامت تک ہمیشہ مظفر ومنصور رہیں گے اور انہیں کسی کے ترک تعاون کی کوئی پرواہ نہ ہوگی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20361]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20362 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20362]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20363 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ مِخْرَاقٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَذْبَحُ الشَّاةَ وَإِنِّي أَرْحَمُهَا أَوْ قَالَ: إِنِّي لَأَرْحَمُ الشَّاةَ أَنْ أَذْبَحَهَا , فَقَالَ: " وَالشَّاةُ إِنْ رَحِمْتَهَا، رَحِمَكَ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کی یا رسول اللہ میں جب بکری کو ذبح کرتا ہوں تو مجھے اس پر ترس آجاتا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا اگر تم بکری پر ترس کھاتے ہو تو اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20363]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20364 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مہینے تین روزے رکھنے کے متعلق فرمایا کہ یہ روزانہ روزہ رکھنے اور کھولنے والے کے مترادف ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20364]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20365 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ابْنٌ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتُحِبُّهُ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَبَّكَ اللَّهُ كَمَا أُحِبُّهُ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا فَعَلَ ابْنُ فُلَانٍ؟" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاتَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِيهِ:" أَمَا تُحِبُّ أَنْ لَا تَأْتِيَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ إِلَّا وَجَدْتَهُ يَنْتَظِرُكَ؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَهُ خَاصَّةً، أَوْ لِكُلِّنَا؟ قَالَ:" بَلْ لِكُلِّكُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر آتا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اس شخص سے پوچھا کہ کیا تمہیں اپنے بیٹے سے محبت ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ جیسی محبت میں اس سے کرتا ہوں اللہ بھی آپ سے اسی طرح محبت کرے پھر وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس سے غائب رہنے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ فلاں شخص کا کیا بنا؟ لوگوں نے بتایا یارسول اللہ اس کا بیٹا فوت ہوگیا ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس دروازے پر جاؤ تو اسے اپنا انتظار کرتے ہوئے پاؤ؟ ایک آدمی نے پوچھا یارسول اللہ یہ حکم اس کے ساتھ خاص ہے یا ہم سب کے لئے ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم سب کے لئے ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20365]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20366 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ويزيد ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , ويزيد , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20367 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ، فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، وَلَا يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ، لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ، حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت قرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب اہل شام میں فساد پھیل جائے تو تم میں کوئی خیر نہ رہے گی اور میرے کچھ امتی قیام قیامت تک ہمیشہ مظفر ومنصور رہیں گے اور انہیں کسی کے ترک تعاون کی کوئی پرواہ نہ ہوگی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20367]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20368 مسند احمد
حَسَنٌ يَعْنِي الْأَشْيَبَ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، زُهَيْرٌ ، عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ يَعْنِي الْأَشْيَبَ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ أَبُو مَهَلٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: " أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَبَايَعْنَاهُ، وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقٌ، قَالَ: فَبَايَعْنَاهُ، ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ" , قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ قَالَ: وَأُرَاهُ يَعْنِي إِيَاسًا فِي شِتَاءٍ قَطُّ وَلَا حَرٍّ إِلَّا مُطْلِقَيْ إِزرَارِهِمَا لَا يَزُرَّانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں میں قبیلہ مزینہ کے ایک گروہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خدمت میں حاضر ہوا ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیعت کی اس وقت آپ کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے چنانچہ بیعت کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اجازت سے آپ کی قمیص مبارک میں ہاتھ ڈال کر مہر نبوت کو چھو کر دیکھا راوی حدیث عروہ کہتے ہیں کہ میں سردی گرمی جب بھی معاویہ اور ان کے بیٹے کو دیکھا ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے ہی دیکھے وہ اس میں کبھی بٹن نہ لگاتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20368]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20369 مسند احمد
رَوْحٌ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أُدْخِلَ يَدِي فِي جُرُبَّانِهِ لِيَدْعُوَ لِي، فَمَا مَنَعَهُ وَأَنَا أَلْمِسُهُ أَنْ دَعَا لِي، قَالَ: فَوَجَدْتُ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ مِثْلَ السِّلْعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بن قرہ اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنا ہاتھ آپ کی قمیص مبارک میں ڈالنے اور اپنے حق میں دعا کرنے کی درخواست کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ کو روکا نہیں اور میں نے مہر نبوت کو ہاتھ لگا کر دیکھا اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے حق میں دعا فرمائی میں نے محسوس کیا کہ مہر نبوت آپ کے کندھے پر غدود کی طرح ابھری ہوئی تھی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20369]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20370 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِيَاسٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِيَاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ :" أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لَهُ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے حق میں دعا فرمائی اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20370]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20371 مسند احمد
وَهْبٌ ، شُعْبَةُ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فِي صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ صَوْمُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاویہ بن قرہ اپنے والد کے حوالے سے روایت کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کے متعلق فرمایا کہ یہ روزانہ روزہ رکھنے اور کھولنے کے مترادف ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20371]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح