بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 20350 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، وَيَزِيدُ ، هِشَامٌ ، حَفْصَةَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ , وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ يَزِيدُ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَنَا بِهِ قَائِمٌ، وَرَجُلٌ مَعَهُ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً، قَالَ: فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: وَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ قَامَ بِكَ الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، قَالَ:" وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ:" أَتَدْرِي مَنْ هُوَ؟" قُلْتُ: لَا , قَالَ:" ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" ثُمَّ قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا وہاں پہنچا تو دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے جس کا چہرہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہے میں سمجھا کہ شاید یہ دونوں کوئی ضروری بات کررہے ہیں واللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ترس آنے لگا جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ یہ آدمی آپ کو اتنی دیر لے کر کھڑا رہا کہ مجھے آپ پر ترس آنے لگا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا تھا میں نے عرض کیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون تھا؟ میں نے عرض کی نہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ جبرائیل تھے جو مجھے مسلسل پڑوسی کے متعلق وصیت کررہے تھے حتی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی حصہ قرار دیں گے پھر فرمایا اگر تم انہیں سلام کرتے تو وہ تمہیں ضرور جواب دیتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20350]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح