بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 20341 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْمُشْمَعِلُّ ، عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيُّ ، رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: وَأَنَا وَصِيفٌ , يَقُولُ: " الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ عجوہ کھجور اور درخت جنت سے آئے ہیں۔ فائدہ۔ بعض روایات میں درخت کے بجائے صخرہ بیت المقدس کا تذکرہ بھی آیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20341]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20342 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، وَعَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ ، رَافِعًا
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , وَأَبُو النَّضْرِ ، وَعَفَّانُ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ" , قَالَ ابْنُ الصَّامِتِ: فَلَقِيتُ رَافِعًا , قَالَ بَهْزٌ: أَخَا الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر وہ دین میں کبھی واپس نہیں آئیں گے وہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے۔ ابن صامت کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت رافع سے ملا اور یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا یہ حدیث میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20342]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1067
الحكم: إسناده صحيح، م: 1067
حدیث نمبر: 20343 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ ، جَدَّتِي ، رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، عَنْ عَمِّ أَبِي: رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقِيلَ: إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا يَرْمِي نَخْلَنَا , فَأُتِيَ بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا غُلَامُ، لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟" قَالَ: قُلْتُ: آكُلُ , قَالَ:" فَلَا تَرْمِ النَّخْلَ، وَكُلْ مَا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا" ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي , وَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع سے مروی ہے کہ میں اور ایک لڑکا انصار کے باغ میں درختوں پر پتھر مارتے تھے باغ کا مالک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ یہاں ایک لڑکا ہے جو ہمارے درختوں پر پتھر مارتا ہے پھر مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اے لڑکے تم درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟ میں نے عرض کیا پھل کھانے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے پھل گرجائے انہیں کھالیا کرو پھر میرے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اے اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20343]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن أبى الحكم وجديه
الحكم: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ابن أبى الحكم وجديه
حدیث نمبر: 20344 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، الْمُشْمَعِلُّ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ ، عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيُّ ، رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِيِّ ، يَقُولُ: قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ" أَوْ قَالَ:" الْعَجْوَةُ وَالشَّجَرَةُ فِي الْجَنَّةِ" شَكَّ الْمُشْمَعِلُّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ عجوہ کھجور اور درخت صخرہ بیت المقدس جنت سے آئے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20344]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20345 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ ، عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ ، رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا الْمُشْمَعِلُّ بْنُ إِيَاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو الْمُزَنِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْعَجْوَةُ وَالصَّخْرَةُ مِنَ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس وقت میں خدمت گذاری کی عمر میں تھا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ عجوہ کھجور اور صخرہ بیت المقدس جنت سے آئے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 20346 مسند احمد
عَفَّانُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ إِلَيْهِ، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ" , قَالَ ابْنُ الصَّامِتِ: فَلَقِيتُ رَافِعًا فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے بعد میری امت میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے پھر وہ دین میں کبھی واپس نہیں آئیں گے وہ لوگ بدترین مخلوق ہوں گے۔ ابن صامت کہتے ہیں پھر میں حضرت رافع سے ملا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1067
الحكم: إسناده صحيح، م: 1067