بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وَمِنْ حَدِيثِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 20339 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ مِسْقَامٌ، " فَأْذَنْ لِي فِي جَرِيرَةٍ أَنْتَبِذُ فِيهَا , قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت صحار عبدی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی میں بیمار آدمی ہوں مجھے مٹکے میں نبیذ بنانے کی اجازت دے دیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اجازت دیدی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20339]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن صحار
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن صحار
حدیث نمبر: 20340 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ الْعَبْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ، حَتَّى يُقَالَ: مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَعْنِي الْعَرَبَ، لِأَنَّ الْعَجَمَ إِنَّمَا تُنْسَبُ إِلَى قُرَاهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت صحار عبدی سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کچھ قبائل کو زمین میں دھنسا نہ دیا جائے اور لوگ پوچھنے لگیں کہ فلاں قبیلے میں سے کتنے لوگ باقی بچے؟ میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قبائل کا ذکر کرتے ہوئے سنا تو میں سمجھ گیا کہ اس سے مراد اہل عرب ہیں کیونکہ عجمیوں کو ان کے شہروں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20340]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن صحار
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال عبدالرحمن بن صحار