بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 20330 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، مَالِكٌ أَوْ ابْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهُ: مَالِكٌ أَوْ ابْنُ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَوْ رَجُلًا مُسْلِمًا، كَانَتْ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَدَخَلَ النَّارَ، فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حارث سے مروی ہے کہ رسول اللہ کو انہوں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مستغنی نہیں ہوجاتا خود کمانے لگ جاتا ہے تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے جو شخص کسی مسلمان آدمی کو آزاد کرتا ہے وہ جہنم سے اس کی آزادی کا سبب بن جاتا ہے اور آزاد ہونے والے کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہوجاتا ہے اور جو شخص اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے اور پھر جہنم میں داخل ہوجائے تو وہ اللہ کی رحمت سے دور جا پڑا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20330]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 20331 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ رَجُلٍ مِنْهُمْ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يَسْتَغْنِيَ عَنْهُ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ، وَمَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فِكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزَى بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حارث سے مروی ہے کہ رسول اللہ کو انہوں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مستغنی نہیں ہوجاتا خود کمانے لگ جاتا ہے تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے جو شخص کسی مسلمان آدمی کو آزاد کرتا ہے وہ جہنم سے اس کی آزادی کا سبب بن جاتا ہے اور آزاد ہونے والے کے ہر عضو کے بدلے میں اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہوجاتا ہے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20331]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد