بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 13
حدیث نمبر: 20060 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، الْحَسَنَ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرُفِعَ ذَاكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ مِثْلُهَا لَهَا، وَإِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا، فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ مِثْلُهَا لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے بدکاری کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہوجائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہوجائے گا اور اگر یہ کام اس کی رضا مندی سے ہوا ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی، البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20060]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من سلمة ابن المحبق، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث على الحسن
الحكم: إسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من سلمة ابن المحبق، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث على الحسن
حدیث نمبر: 20061 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، سَلَمَةَ بن المحبِّق
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بن المحبِّق : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى بَيْتٍ قُدَّامُهُ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّرَابَ، فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ:" دِبَاغُهَا ذَكَاتُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسے گھر کے پاس سے گذرے جس کے صحن میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں سے پینے کے لئے پانی مانگا تو وہ کہنے لگے کہ یہ مردہ جانوور کی کھال کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دباغت کھال کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20061]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة جون بن قتاده
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة جون بن قتاده
حدیث نمبر: 20062 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، رَجُلٍ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى أَهْلِ بَيْتٍ، فَاسْتَسْقَى، فَإِذَا قِرْبَةٌ فِيهَا مَاءٌ، فَقَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " الْأَدِيمُ طُهُورُهُ دِبَاغُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسے گھر کے پاس سے گذرے جس کے صحن میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں سے پینے کے لئے پانی مانگا تو وہ کہنے لگے کہ یہ مردہ جانور کی کھال کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دباغت کھال کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20062]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف، والرجل المبهم هنا، جون بن قتاده وهذا مجهول
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف، والرجل المبهم هنا، جون بن قتاده وهذا مجهول
حدیث نمبر: 20063 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ رَجُلًا غَشِيَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ وَهُوَ فِي غَزْوٍ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا، فَهِيَ حُرَّةٌ مِنْ مَالِهِ، وَعَلَيْهِ شِرَاؤُهَا لِسَيِّدَتِهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ، فَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ لِسَيِّدَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے ایک غزوے کے دوران اپنی بیوی کی باندی سے بدکاری کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہوجائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہوجائے گا اور اگر یہ کام اس کی رضا مندی سے ہوا ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی، البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20063]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من سلمة بن المحبق، ثم إن فى هذا الاسناد اختلافا
الحكم: إسناده ضعيف الانقطاعه، فإن الحسن البصري لم يسمع من سلمة بن المحبق، ثم إن فى هذا الاسناد اختلافا
حدیث نمبر: 20064 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ فِي غَزَاةٍ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لِامْرَأَتِهِ فَوَقَعَ بِهَا، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا، فَهِيَ عَتِيقَةٌ، وَلَهَا عَلَيْهِ مِثْلُهَا، وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ أَمَتُهُ، وَلَهَا عَلَيْهِ مِثْلُهَا" ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِي غَزْوَةٍ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے بدکاری کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہوجائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہوجائے گا اور اگر یہ کام اس کی رضا مندی سے ہوا ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی، البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20064]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف راجع ما قبله
حدیث نمبر: 20065 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20065]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف راجع ما قبله
حدیث نمبر: 20066 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيد ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيد ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف راجع ما قبله
حدیث نمبر: 20067 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى قِرْبَةٍ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَدَعَا مِنْهَا بِمَاءٍ وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ:" سَلُوهَا، أَلَيْسَ قَدْ دُبِغَتْ؟" فَقَالَتْ: بَلَى فَأَتَى مِنْهَا لِحَاجَتِهِ، فَقَالَ: " ذَكَاةُ الْأَدِيمِ دِبَاغُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عزوہ حنین کے موقع پر ایک ایسے گھر کے پاس سے گذرے جس کے صحن میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں سے پینے کے لئے پانی مانگا تو وہ کہنے لگے کہ یہ مردہ جانور کی کھال کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دباغت کھال کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20067]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعف لانقطاعه، فأن الحسن لم يسمع من سلمة
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعف لانقطاعه، فأن الحسن لم يسمع من سلمة
حدیث نمبر: 20068 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، الْحَسَنِ ، جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ , أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَأَتَى عَلَى بَيْتٍ قُدَّامُهُ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ، فَسَأَلَ الشَّرَابَ , فَقِيلَ: إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ:" ذَكَاتُهَا دِبَاغُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عزوہ حنین کے موقع پر ایک ایسے گھر کے پاس سے گذرے جس کے صحن میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں سے پینے کے لئے پانی مانگا تو وہ کہنے لگے کہ یہ مردہ جانور کی کھال کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دباغت کھال کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20068]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة جون بن قتاده
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة جون بن قتاده
حدیث نمبر: 20069 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ: " إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا، فَهِيَ حُرَّةٌ، وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا، وإنْ كانت طاوَعَتْه فهيَ له، وعليه لسيِّدَتِها مِثلُها" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے بدکاری کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اس باندی سے زبردستی یہ حرکت کی ہو تو وہ باندی آزاد ہوجائے گی اور مرد پر اس کے لئے مہر مثل لازم ہوجائے گا اور اگر یہ کام اس کی رضا مندی سے ہوا ہو تو وہ اس کی باندی ہی رہے گی، البتہ مرد کو مہر مثل ادا کرنا پڑے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20069]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة قبيصة بن حريث
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة قبيصة بن حريث
حدیث نمبر: 20070 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، مُعَاذِ بْنِ سَعْوَةَ الرَّاسِبِيِّ ، سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ ، سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ سَعْوَةَ الرَّاسِبِيِّ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ سَلَمَةَ , وَكَانَ قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ بَعَثَ بَدَنَتَيْنِ مَعَ رَجُلٍ، وَقَالَ:" إِنْ عَرَضَ لَهُمَا فَانْحَرْهُمَا، وَاغْمِسْ النَّعْلَ فِي دِمَائِهِمَا، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَيْهِمَا، حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّهُمَا بَدَنَتَانِ" قَالَ:" صَفْحَتَيْ كُلِّ وَاحِدَةٍ" قَالَ:" وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ، وَدَعْهَا لِمَنْ بَعْدَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی کے ہاتھ قربانی کے دو اونٹ بھیجے اور فرمایا اگر انہیں کوئی بیماری لاحق ہوجائے (اور یہ مرنے کے قریب ہوجائیں) تو انہیں ذبح کر دینا اور ان کے نعل کو ان ہی کے خون میں ڈبو کر ان کی پیشانی پر لگا دینا تاکہ یہ واضح رہے کہ یہ دونوں قربانی کے جانور ہیں اور تم یا تمہارے رفقاء میں سے کوئی بھی اس میں سے کچھ نہ کھائے، بلکہ بعد والوں کے لئے اسے چھوڑ دینا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20070]
حکم دارالسلام
...
الحكم: ...
حدیث نمبر: 20071 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وعبد الصمد ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ , وَأَبُو دَاوُدَ ، وعبد الصمد ، المعنى، قَالُوا: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ : أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ مِنْ قِرْبَةٍ عِنْدَ امْرَأَةٍ، فَقَالَتْ: إِنَّهَا مَيْتَةٌ , فَقَالَ:" أَلَيْسَ قَدْ دَبَغْتِهَا؟" قَالَتْ: بَلَى , قَالَ:" دِبَاغُهَا ذَكَاتُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ایسے گھر کے پاس سے گذرے جس کے صحن میں ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں سے پینے کے لئے پانی مانگا تو وہ کہنے لگے کہ یہ مردہ جانور کی کھال کا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دباغت کھال کی پاکیزگی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20071]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، معاذ بن سعوة مجهول، وعبدالكريم بن أبى المخارق ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، معاذ بن سعوة مجهول، وعبدالكريم بن أبى المخارق ضعيف
حدیث نمبر: 20072 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ بن عبد الوارث ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْعَوْذِيُّ ، أَبِي ، سِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْمُحَبِّقِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بن عبد الوارث ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْعَوْذِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ مُكْرَانَ، فَقَالَ سِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ : حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْمُحَبِّقِ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَدْرَكَهُ رَمَضَانُ، لَهُ حُمُولَةٌ يَأْوِي إِلَى شِبَعٍ، فَلْيَصُمْ رَمَضَانَ حَيْثُ أَدْرَكَهُ" , وقَالَ سِنَانٌ: وُلِدْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَبُشِّرَ بِي أَبِي، فَقَالُوا لَهُ: وُلِدَ لَكَ غُلَامٌ , فَقَالَ: سَهْمٌ أَرْمِي بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا بَشَّرْتُمُونِي بِهِ , وَسَمَّانِي سِنَانًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کو رمضان ملے اور اس میں اتنی ہمت ہو کہ وہ بھوک کو برداشت کرسکے تو وہ جہاں بھی دوران سفر ماہ رمضان کو پالے، اسے روزہ رکھ لینا چاہیے۔ اور سنان کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین کے دن پیدا ہوا تھا، میرے والد کو میری پیدائش کی خوشخبری دی گئی اور لوگوں نے بتایا کہ ان کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دفاع میں وہ تیر جو میں چلاؤں، اس خوشخبری سے زیادہ مجھے پسند ہے جو تم نے مجھے دی ہے، پھر انہوں نے میرا نام سنان رکھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20072]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة جون بن قتاده
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لجهالة جون بن قتاده