بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَهْزِيِّ عَنْ أَبِيهِ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 20011 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ يَعْنِي يَحْيَى بْنَ أَبِي بُكَيْرٍ ، شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ ، أَبَا قَزَعَةَ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَهْزِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ , وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ يَعْنِي يَحْيَى بْنَ أَبِي بُكَيْرٍ , قال: حَدَّثَنَا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ ، الْمَعْنَى، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ , وقال ابن أبي بُكَير: يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ دِيْنَارٍ , يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَهْزِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي حَلَفْتُ هَكَذَا وَنَشَرَ أَصَابِعَ يَدَيْهِ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا الَّذِي بَعَثَكَ اللَّهُ بِهِ , قَالَ:" بَعَثَنِي اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ" قَالَ: وَمَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ: " شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَحَدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ" . قَالَ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا حَقُّ زَوْجِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: " تُطْعِمُهَا إِذَا أَكَلْتَ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ" . ثُمَّ قَالَ: " هَاهُنَا تُحْشَرُونَ، هَاهُنَا تُحْشَرُونَ، هَاهُنَا تُحْشَرُونَ ثَلَاثًا رُكْبَانًا وَمُشَاةً وَعَلَى وُجُوهِهمْ، تُوفُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أُمَّةً، أَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ، تَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ، أَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ" , قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ، فَقَالَ: إِلَى هَاهُنَا تُحْشَرُونَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اتنی مرتبہ (اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر کہا) قسم کھائی تھی (کہ آپ کے پاس نہیں آؤں گا، اب میں آپ کے پاس آگیا ہوں تو) مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، پوچھا اسلام کیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ یہی دونوں چیزیں مددگار ہیں اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ! ہم پر اپنی بیوی کا حق بنتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو۔ پھر تین مرتبہ فرمایا تم سب یہاں (شام کی طرف اشارہ کیا) جمع کئے جاؤ گے، تم میں سے بعض سوار ہوں گے، بعض پیدل اور بعض چہروں کے بل۔ قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہو گے اور سب سے آخری امت تم ہوں گے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو گے۔ قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہوگے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی، وہ ران ہوگی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20011]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20012 مسند احمد
مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شِبْلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي قَزَعَةَ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شِبْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ مَالًا وَوَلَدًا، حَتَّى ذَهَبَ عَصْرٌ وَجَاءَ عَصْرٌ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ , قَالَ: أَيْ بَنِيَّ، أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ؟ قَالُوا: خَيْرَ أَبٍ , قَالَ: فَهَلْ أَنْتُمْ مُطِيعِيَّ؟ قَالُوا: نَعَمْ , قَالَ: انْظُرُوا إِذَا مُتُّ أَنْ تُحَرِّقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي فَحْمًا , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَفَعَلُوا ذَلِكَ , ثُمَّ اهْرُسُونِي بِالْمِهْرَاسِ , يُومِئُ بِيَدِهِ" , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَفَعَلُوا واللهِ ذَلِكَ , ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمِ رِيحٍ، لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ" قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: أَيْ رَبِّ، مَخَافَتُكَ , قَالَ: فَتَلَافَاهُ اللَّهُ بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا دیکھو، جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے کہا پروردگار! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی تلافی فرمادی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20012]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 20013 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي قَزَعَةَ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَأَلَهُ رَجُلٌ: مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟ قَالَ: " تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم پر اپنی بیوی کا کیا حق بنتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20013]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20014 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو قَزَعَةَ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ أَخَاهُ مَالِكًا قَالَ: يَا مُعَاوِيَةُ، إِنَّ مُحَمَّدًا أَخَذَ جِيرَانِي، فَانْطَلِقْ إِلَيْهِ، فَإِنَّهُ قَدْ عَرَفَكَ وَكَلَّمَكَ , قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: دَعْ لِي جِيرَانِي، فَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْلَمُوا , فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَامَ مُتَمَعِّطًا، فَقَالَ: أَمْا وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ، إِنَّ النَّاسَ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَأْمُرُ بِالْأَمْرِ، وَتَخْالُفُ إِلَى غَيْرِهِ، وَجَعَلْتُ أَجُرُّهُ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا يَقُولُ؟" فَقَالُوا: إِنَّكَ وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ، إِنَّ النَّاسَ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَتَأْمُرُ بِالْأَمْر، وَتُخَالِفُ إِلَى غَيْرِهِ , قَالَ: فَقَالَ:" أَوَ قَدْ قَالُوهَا أَوْ قَائِلُهُمْ؟ فَلَئِنْ فَعَلْتُ ذَاكَ، وَمَا ذَاكَ إِلَّا عَلَيَّ، وَمَا عَلَيْهِمْ مِنْ ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ، أَرْسِلُوا لَهُ جِيرَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی مالک نے ان سے کہا کہ معاویہ! محمد صلی اللہ علیہ السلام نے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا ہے، تم ان کے پاس جاؤ، وہ تمہیں پہچانتے اور تم سے بات کرتے ہیں، میں اپنے بھائی کے ساتھ چلا گیا، اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو چھوڑ دیجئے، وہ مسلمان ہوچکے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بات سے اعراض کیا، (میرا بھائی) اکھڑ پن کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور آہستہ سے کہا کہ بخدا! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم کیا کہہ رہے تھے؟ (وہ خاموش رہا) لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہ ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20014]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 20015 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَأَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً، أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہوگے اور سب سے آخری امت تم ہوں گے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْبَصْرِيِّينَ/حدیث: 20015]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن