بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 19428 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، قَتَادَةُ ، سَالِمِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِصْنَ الطَّائِفِ أَوْ: قَصْرَ الطَّائِفِ فَقَالَ: " مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ"، فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا،" وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَهُوَ لَهُ عِدْلُ مُحَرَّرٍ، وَمَنْ أَصَابَهُ شَيْبٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَهُوَ لَهُ نُورٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَعْتَقَ رَجُلًا مُسْلِمًا، جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهِ مِنَ النَّارِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتْ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ وِقَاءَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِهَا عَظْمًا مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهَا مِنَ النَّارِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ طائف کے قلعے کا محاصرہ کرلیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے ایک تیر مارا جنت میں اس کا ایک درجہ ہوگا چناچہ میں نے اس دن سولہ تیر پھینکے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اللہ کے راستہ میں ایک تیر پھینکے تو یہ ایک غلام آزاد کرانے کے برابر ہے جو شخص اللہ کے راستہ میں بوڑھا ہوجائے تو وہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لئے باعث نور ہوگا اور جو شخص کوئی تیر پھینکے " خواہ وہ نشانے پر لگے یا چوک جائے " تو یہ ایسے ہے جیسے حضرت اسماعیل کی اولاد میں کسی غلام کو آزاد کرنا اور جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرائے اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا اور عورت کے آزاد کرنے کا بھی یہی حکم ہے۔ حضرت ابونجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ طائف کے قلعے کا محاصرہ کرلیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے ایک تیر مارا جنت میں اس کا ایک درجہ ہوگا چناچہ میں نے اس دن سولہ تیرپھینکے۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19428]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19429 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَن سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: حَاصَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِصْنَ الطَّائِفِ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَبَلَغَهُ، فَلَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنْ رَمَيْتُ، فَبَلَغْتُ، فَلِي دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: فَرَمَى فَبَلَغَ، قَالَ: فَبَلَغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح