بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 19079 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِسَكْرَانَ، فَأَمَرَ مَنْ كَانَ مَعَهُ أَنْ يَضْرِبُوهُ بِمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گذرتے جارہے ہیں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں تھوڑی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ اسی سے اس شخص کو ماریں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19079]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن بن الأزهر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن بن الأزهر
حدیث نمبر: 19080 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ ، يَقُولُ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَاةَ الْفَتْحِ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَتَخَلَّلُ النَّاسَ يَسْأَلُ عَنْ مَنْزِلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِشَارِبٍ، فَأَمَرَ بِهِ، فَضَرَبُوهُ بِمَا فِي أَيْدِيهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِنَعْلِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِعَصًا، وَمِنْهُمْ مَنْ ضَرَبَهُ بِسَوْطٍ، وَحَثَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے غزوہ حنین کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے درمیان سے راستہ بنا کر گذرتے جارہے ہیں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ٹھکانے کا پتہ پوچھتے جارہے ہیں تھوڑی دیر میں ایک آدمی کو نشے کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لوگ لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھ آنے والوں کو حکم دیا کہ ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ اسی سے اس شخص کو ماریں۔ چناچہ کسی نے اسے لاٹھی سے مارا اور کسی نے کوڑے سے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر مٹی پھینکی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19080]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن بن الأزهر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع هذا الحديث من عبدالرحمن بن الأزهر
حدیث نمبر: 19081 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ يُحَدِّثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ خَرَجَ يَوْمَئِذٍ وَكَانَ عَلَى الْخَيْلِ خَيْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ أَزْهَرَ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا هَزَمَ اللَّهُ الْكُفَّارَ، وَرَجَعَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى رِحَالِهِمْ يَمْشِي فِي الْمُسْلِمِينَ، وَيَقُولُ: " مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ" قَالَ: فَمَشَيْتُ أَوْ فَسَعَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَنَا مُحْتَلِمٌ، أَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ حَتَّى تَخَلَّلْنَا عَلَى رَحْلِهِ، فَإِذَا خَالِدٌ مُسْتَنِدٌ إِلَى مُؤْخِرَةِ رَحْلِهِ، فَأَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى جُرْحِهِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: وَنَفَثَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ زخمی ہوگئے تھے وہ نبی کریم کے گھوڑے پر سوار تھے کفار کی شکست کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسلمانوں کے درمیان " جو کہ جنگ سے واپس آرہے تھے چلتے جارہے ہیں اور فرماتے جارہے ہیں کہ خالد بن ولید کے خیمے کا پتہ کون بتائے گا؟ میں اس وقت نابالغ لڑکا تھا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آگے آگے یہ کہتے ہوئے دوڑنے لگا کہ خالد بن ولید کے خیمے کا پتہ بتائے گا؟ یہاں تک کہ ہم ان کے خیمے پر جا پہنچے وہاں حضرت خالد رضی اللہ عنہ اپنے کجاوے کے پچھلے حصے سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آکر ان کا زخم دیکھا پھر اس پر اپنا لعاب دہن لگادیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19081]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن بن الأزهر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن بن الأزهر
حدیث نمبر: 19082 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ كَانَ يُحَدِّثُ:" أَنَّهُ حَضَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَانَ يَحْثِي فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ" . قَالَ أَبِي: وَهَذَا يَتْلُو حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ عَنْ قَبِيصَةَ فِي شَارِبِ الْخَمْرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اس وقت حاضر تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شراب خور کے منہ میں مٹی ڈال رہے تھے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19082]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن بن الأزهر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الزهري لم يسمع من عبدالرحمن بن الأزهر