وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ أَوْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ أَوْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو ، كَذَا قَالَ سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ ضَمَّ يَتِيمًا بَيْنَ أَبَوَيْهِ، فَلَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مالک بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو انہوں نے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مسلمان ماں باپ کے کسی یتیم بچے کو اپنے کھانے اور پینے میں اس وقت تک شامل رکھتا ہے جب تک وہ اس امداد سے مستغنی نہیں ہوجاتا (خودکمانے لگ جاتا ہے) تو اس کے لئے یقینی طور پر جنت واجب ہوتی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19026]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على زرارة بن أوفي فى اسم صحابية ونسبه ونسبته
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فيه على زرارة بن أوفي فى اسم صحابية ونسبه ونسبته