بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 19007 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا يُوجِبُ الْغُسْلَ، وَعَنِ الْمَاءِ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِي، وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ، وَعَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، أَمَّا أَنَا فَإِذَا فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا" فَذَكَرَ الْغُسْلَ، قَالَ:" أَتَوَضَّأُ وُضُوئِي لِلصَّلَاةِ أَغْسِلُ فَرْجِي" ثُمَّ ذَكَرَ الْغُسْلَ،" وَأَمَّا الْمَاءُ يَكُونُ بَعْدَ الْمَاءِ فَذَلِكَ الْمَذْيُ، وَكُلُّ فَحْلٍ يُمْذِي، فَأَغْسِلُ مِنْ ذَلِكَ فَرْجِي وَأَتَوَضَّأُ، وَأَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي، فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً، وَأَمَّا مُؤَاكَلَةُ الْحَائِضِ فوَآكِلْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کن چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے؟ مادہ منویہ کے بعد جو مادہ نکلتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟ گھر میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ مسجد میں نماز پڑھنے اور ایام والی عورت کے ساتھ اکٹھے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتا، جب میں اپنی بیوی کے پاس جاتا ہوں تو غسل کے وقت پہلے وضو کرتا ہوں جیسے نماز کے لئے وضو کرتا ہوں پھر شرمگاہ کو دھوتا ہوں اور پھر غسل کرتا ہوں، مادہ منویہ کے بعد نکلنے والا مادہ " مذی ' کہلاتا ہے اور ہر صحت مند آدمی کو مذی آتی ہے اس موقع پر میں شرمگاہ کو دھو کر صرف وضو کرتا ہوں رہا مسجد میں نماز پڑھنے کا سوال تو تم دیکھ ہی رہے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے لیکن مجھے مسجد کی نسبت اپنے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ پسند ہے الاّ یہ کہ فرض نماز ہو باقی رہاحائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا تو وہ تم کھاپی سکتے ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19007]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19008 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَرَامِ بْنِ معاوية ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ معاوية ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ:" وَاكِلْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ ایام والی عورت کے ساتھ اکٹھے کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس کے ساتھ کھاسکتے ہو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19008]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح