يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَرْفَجَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ ، أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ " أُصِيبَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ، فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ" . قَالَ يَزِيدُ: فَقِيلَ لِأَبِي الْأَشْهَبِ: أَدْرَكَْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ جَدَّهُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن طرفہ کہتے ہیں کہ ان کے دادا حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ کی ناک زمانہ جاہلیت میں " یوم کلاب " کے موقع پر ضائع ہوگئی تھی انہوں نے چاندی کی ناک بنوالی لیکن اس میں بدبو پیدا ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دے دی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 19006]
الحكم: إسناده حسن