بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 18992 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ، وَابْنُ أُخْتِهِمْ مِنْهُمْ، وَحَلِيفُهُمْ مِنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا کسی قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے، اسی طرح بھانجا اور حلیف بھی اسی قوم میں شمار ہوتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18992]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: وحليفهم منهم، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبيد
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: وحليفهم منهم، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبيد
حدیث نمبر: 18993 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ خُثَيْمٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا، فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ؟"، قَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنُ أُخْتِنَا وَحَلِيفُنَا وَمَوْلَانَا، فَقَالَ: " ابْنُ أُخْتِكُمْ مِنْكُمْ، وَحَلِيفُكُمْ مِنْكُمْ، وَمَوْلَاكُمْ مِنْكُمْ، إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ صِدْقٍ وَأَمَانَةٍ، فَمَنْ بَغَى لَهَا الْعَوَائِرَ، أَكَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ لِوَجْهِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رفاعہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی نے قریش کو جمع کیا اور پوچھا کہ تم میں قریش کے علاوہ تو کوئی نہیں؟ لوگوں نے کہا نہیں، البتہ ہمارے بھانجے، حلیف اور آزاد کردہ غلام ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے بھانجے، حلیف اور آزاد کردہ غلام تم ہی میں سے ہیں، بیشک قریش کے لوگ سچائی اور امانت والے ہیں، جو شخص ان کے لئے گڑھے کھودے گا، اللہ اسے اوندھے منہ جہنم میں گرا دے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18993]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف دون قوله:أبن أختكم منكم ومولاكم منكم فصحيح لغيره
الحكم: إسناده ضعيف دون قوله:أبن أختكم منكم ومولاكم منكم فصحيح لغيره
حدیث نمبر: 18994 مسند احمد
عَفَّانُ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَلِيفُنَا مِنَّا، وَمَوْلَانَا مِنَّا، وَابْنُ أُخْتِنَا مِنَّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا ہمارا آزاد کردہ غلام، بھانجا اور حلیف بھی ہم ہی میں شمار ہوگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18994]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: حليفا منا، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبيد
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: حليفا منا، وهذا إسناد ضعيف لجهالة إسماعيل بن عبيد
حدیث نمبر: 18995 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعِدْ صَلَاتَكَ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، قَالَ: فَرَجَعَ فَصَلَّى كَنَحْوٍ مِمَّا صَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ:" أَعِدْ صَلَاتَكَ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: " إِذَا اسْتَقْبَلْتَ الْقِبْلَةَ، فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا شِئْتَ، فَإِذَا رَكَعْتَ، فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ، وَامْدُدْ ظَهْرَكَ، وَمَكِّنْ لِرُكُوعِكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ، فَأَقِمْ صُلْبَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا، وَإِذَا سَجَدْتَ، فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ، فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى، ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور نبی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہی نماز پڑھنے لگا، نماز سے فارغ ہو کر وہ نبی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ، کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی، وہ چلا گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھ کر واپس آگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پھر یہی فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ، کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی، وہ کہنے لگا یارسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھا دیجئے کہ کیسے پڑھوں؟ نبی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم قبلہ کی طرف رخ کرلو تو اللہ اکبر کہو، پھر سورت فاتحہ پڑھو اور اس کے ساتھ جو سورت چاہو پڑھو، جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو، اپنی کمر بچھالو اور رکوع کے لئے اسے خوب برابر کرلو، جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو اپنی کمر کو سیدھا کرلو، یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے جوڑوں پر قائم ہوجائیں اور جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح کرو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو بائیں ران پر بیٹھ جاؤ اور ہر رکوع و سجود میں اسی طرح کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18995]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على على بن يحيي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على على بن يحيي
حدیث نمبر: 18996 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ ، أَبِيهِ ، رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي يَوْمًا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، وَقَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟" قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب نبی نے رکوع سے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو پیچھے سے ایک آدمی نے ربنا لک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا یہ کلمات ابھی کس نے کہے، اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! میں نے کہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون ان کا ثواب پہلے لکھتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 799
الحكم: إسناده صحيح، خ: 799
حدیث نمبر: 18997 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ عَجْلَانَ ، عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، أَبِيهِ ، عَمِّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَخَلَ رَجُلٌ، فَصَلَّى فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُهُ، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ، وَقَالَ:" ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ" قَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، فَقَالَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ أَجْهَدْتُ نَفْسِي، فَعَلِّمْنِي وَأَرِنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تُصَلِّيَ، فَتَوَضَّأْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ قُمْ، فَإِذَا أَتْمَمْتَ صَلَاتَكَ عَلَى هَذَا، فَقَدْ أَتْمَمْتَهَا، وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّمَا تُنْقِصُهُ مِنْ صَلَاتِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہی نماز پڑھنے لگا نماز سے فارغ ہو کر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی وہ چلا گیا اور پہلے کی طرح نماز پڑھنے کر واپس آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پھر یہی فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی وہ کہنے لگا یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آگیا، نبی کریم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پھر یہی فرمایا اپنی نماز دوبارہ لوٹاؤ کیونکہ تم نے صحیح طرح نماز نہیں پڑھی وہ کہنے لگا یا رسول اللہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! مجھے نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھادیجئے کہ کیسے پڑھوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم قبلہ کی طرف رخ کرلو تو اللہ اللہ اکبر کہو، پھر سورت فاتحہ پڑھو اور اس کے ساتھ جو سورت چاہو پڑھو جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اپنی کمربچھالو اور رکوع کے لئے اسے خوب برابر کرلو جب رکوع سے سر اٹھاؤ تو اپنی کمر کو سیدھا کرلو یہاں تک کہ تمام ہڈیاں اپنے اپنے جوڑوں پر قائم ہوجائیں اور جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح کرو اور کھڑے ہوجاؤ اگر تم نے اس طرح اپنی نماز کو مکمل کیا تو تم نے اسے کامل ادا کیا اور اگر تم نے ان میں سے کسی چیز میں کوتاہی کی تو تمہاری نماز نامکمل ہوئی۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18997]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن