بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ بُسْرِ بْنِ مِحْجَنٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 18978 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ . قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: عَنْ بُسْرٍ أَوْ بشْرِ بْنِ مِحْجَنٍ، ثُمَّ كَانَ يَقُولُ بَعْدُ: عَنِ ابْنِ مِحْجَنٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى، فَقَالَ لِي:" أَلَا صَلَّيْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ صَلَّيْتُ فِي الرَّحْلِ، ثُمَّ أَتَيْتُكَ، قَالَ: " فَإِذَا فَعَلْتَ، فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَاجْعَلْهَا نَافِلَةً" . قَالَ أَبِي: وَلَمْ يَقُلْ أَبُو نُعَيْمٍ وَلَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" وَاجْعَلْهَا نَافِلَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محجن سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوگئی تو میں ایک طرف کو بیٹھ گیا، نماز سے فارغ ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے گھر میں نماز پڑھ لی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اگرچہ گھر میں نماز پڑھ لی ہو تب بھی لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوجایا کرو اور نفل کی نیت کرلیا کرو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18978]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، بسر بن محجن مجهول
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، بسر بن محجن مجهول