بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 18967 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عَقِيلٍ ، سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ، أَبِي سَلَّامٍ ، خَادِمُ النَّبِيِّ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ قَاضِي وَاسِطٍ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ، فَقَالُوا: هَذَا خَادِمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَدَاوَلُهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا، لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی کی خدمت کی ہے، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے، رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18967]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سابق بن ناجية
حدیث نمبر: 18968 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، أَبِي عَقِيلٍ ، أَبِي سَلَّامٍ ، خَادِمِ النَّبِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، عَنْ خَادِمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَالَ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، حِينَ يُمْسِي ثَلَاثًا وَحِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثًا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ نبی کے ایک خادم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18968]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد وهم فيه مسعر، والمحفوظ رواية شعبة السالفة برقم: 18967، ثم إنه قد اختلف فيه على مسعر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد وهم فيه مسعر، والمحفوظ رواية شعبة السالفة برقم: 18967، ثم إنه قد اختلف فيه على مسعر
حدیث نمبر: 18969 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عَقِيلٍ هَاشِمِ بْنِ بِلَالٍ ، سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ، أَبِي سَلَّامٍ ، خَدَمَ النَّبِيَّ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ هَاشِمِ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ سَابِقِ بْنِ نَاجِيَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: الْحَبَشِيُّ، قَالَ: مَرَّ بِهِ رَجُلٌ فِي مَسْجِدِ حِمْصَ، فَقِيلَ: هَذَا خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَدَاوَلْهُ بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ الرِّجَالُ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ حِينَ يُمْسِي وَحِينَ يُصْبِحُ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُرْضِيَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلام کہتے ہیں کہ حمص کی مسجد میں سے ایک آدمی گذر رہا تھا، لوگوں نے کہا کہ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ہے، میں اٹھ کر ان کے پاس گیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی حدیث ایسی سنائیے جو آپ نے خود نبی سے سنی ہو اور درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بندہ مسلم صبح و شام تین تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے، رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبیا (کہ میں اللہ کو رب مان کر، اسلام کو دین مان کر اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہوں) تو اللہ پر یہ حق ہے کہ قیامت کے دن اسے راضی کرے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18969]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة سابق بن ناجية
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، لجهالة سابق بن ناجية
حدیث نمبر: 18970 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ خَدَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ سِنِينَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُرِّبَ لَهُ طَعَامٌ، قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ" فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَغْنَيْتَ وَأَقْنَيْتَ وَهَدَيْتَ وَاجْتَبَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نبی کے ایک خادم جنہوں نے آٹھ سال تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ہے مروی ہے کہ نبی کے سامنے جب کھانے کو پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بسم اللہ کہہ کر شروع فرماتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ تو نے کھلایا پلایا، غناء اور روزی عطاء فرمائی، تو نے ہدایت اور زندگانی عطاء فرمائی، تیری بخششوں پر تیری تعریف واجب ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18970]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، رشدين بن سعد ضعيف لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، رشدين بن سعد ضعيف لكنه توبع