عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنِ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ ، مَعْنِ بْنِ نَضْلَةَ ، نَضْلَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنِ بْنِ نَضْلَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيُّ مَدِينِيّ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ مَعْنِ بْنِ نَضْلَةَ ، عَنْ نَضْلَةَ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيّ ، أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَرَّبَيْنَ، فَهَجَمَ عَلَيْهِ شَوَائِلُ لَهُ، فَسَقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَةَ إِنَاءٍ، فَامْتَلَأَ بِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كُنْتُ لَأَشْرَبُ السَّبْعَةَ فَمَا أَمْتَلِئُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ، وَإِنَّ الْكَافِرَ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نضلہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مرین نامی جگہ میں نبی سے ان کی ملاقات ہوئی، ان کے پاس جب ان کی گابھن بکریاں یا اونٹنیاں جمع ہوئیں تو انہوں نے نبی کو دودھ پلایا اور جو باقی بچا وہ خود پی لیا اور اسی میں ان کا پیٹ بھر گیا، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پہلے میں سات پیالے پی جاتا تھا لیکن سیراب نہیں ہوتا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18962]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة معن بن نضلة بن عمرو محمد بن معن مستور
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة معن بن نضلة بن عمرو محمد بن معن مستور