بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 18943 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ: وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الْبُدْنِ؟ قَالَ: " انْحَرْهُ، وَاغْمِسْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ، وَاضْرِبْ صَفْحَتَهُ، وَخَلِّ بَيْنَ النَّاسِ وَبَيْنَهُ، فَلْيَأْكُلُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ناجیہ رضی اللہ عنہ (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کے ذمہ دار تھے) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہدی کا کوئی اونٹ مرنے کے قریب ہوجائے تو کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فریاما اسے ذبح کردو اور اس کے نعل کو اس کے خون میں ڈبو کر اس کی پیشانی پر مل دو اور اسے لوگوں کے لئے چھوڑ دو تاکہ وہ اسے کھالیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18943]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18944 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَاجِيَةَ الْخُزَاعِيِّ ، وَكَانَ صَاحِبَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَصْنَعُ بِمَا عَطِبَ مِنَ الَإِبِلِ أَوْ الْبُدْنِ؟ قَالَ: " انْحَرْهَا ثُمَّ أَلْقِ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ خَلِّ عَنْهَا وَعَنِ النَّاسِ، فَلْيَأْكُلُوهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ناجیہ رضی اللہ عنہ (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کے ذمہ دار تھے) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہدی کا کوئی اونٹ مرنے کے کر قریب ہوجائے تو کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فریاما اسے ذبح کردو اور اس کے نعل کو اس کے خون میں ڈبو کر اس کی پیشانی پر مل دو اور اسے لوگوں کے لئے چھوڑ دو تاکہ وہ اسے کھالیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18944]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح