بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 18896 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، رَجُلٍ ، كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ اللَّيْلِ أَجْوَبُ؟ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَسْمَعُ، قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّار" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کے رات کے کس حصے میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رات کے آخری پہر میں۔ اور جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد فرمادے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18896]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن كعب بن مرة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن كعب بن مرة
حدیث نمبر: 18897 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، رَجُلٍ ، كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ" قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" ثُمَّ الصَّلاَةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يُصَلَّى الْفَجْرُ، ثُمَّ لَاَ صَلاَةَ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ الصَّلَاَةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ قِيَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَاَ صَلاَةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلَاَةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى تَكُونَ الشَّمْسُ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ، ثُمَّ لَا صَلاَةَ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ" . قَالَ: " إِذَا غَسَلْتَ وَجْهَكَ، خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ وَجْهِكَ، وَإِذَا غَسَلْتَ يَدَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ يَدَيْكَ، وَإِذَا غَسَلْتَ رِجْلَيْكَ خَرَجَتْ خَطَايَاكَ مِنْ رِجْلَيْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کے رات کے کس حصے میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رات کے آخری پہر میں، پھر نماز فجر تک نماز قبول ہوتی ہے نماز فجر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے حتٰی کہ سورج ایک یا دو نیزوں کے برابر ہوجائے پھر نماز مقبول ہوتی ہے حتی کہ سایہ ایک نیزے کے برابر ہوجائے پھر زوال شمس تک کوئی نماز نہیں ہے پھر نماز مقبول ہوتی ہے حتیٰ کہ سورج ایک دو نیزوں کے برابررہ جائے پھر غروب آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے اور فرمایا کہ جب تم اپنا چہرہ دھوتے ہو تو چہرے کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں ہاتھ دھوتے ہو تو ان کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں اور پاؤں دھوتے ہو تو پاؤں کے گناہ نکل جاتے ہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18897]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن كعب بن مرة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن كعب بن مرة