عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، رَجُلٍ ، كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ اللَّيْلِ أَجْوَبُ؟ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: أَسْمَعُ، قَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّار" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کے رات کے کس حصے میں دعاء سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا رات کے آخری پہر میں۔ اور جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد فرمادے گا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18896]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن كعب بن مرة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن كعب بن مرة