بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَجُلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 18819 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يُتَلَقَّى جَلَبٌ، ولَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَمَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً أَوْ نَاقَةً قَالَ شُعْبَةُ إِنَّمَا قَالَ: نَاقَةً مَرَّةً وَاحِدَةً فَهُوَ فِيهَا بِآخِرِ النَّظَرَيْنِ إِذَا هُوَ حَلَبَ إِنْ رَدَّهَا، رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ" . قَالَ الْحَكَمُ: أَوْ قَالَ:" صَاعًا مِنْ تَمْرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا باہر سے آنے والے تاجروں سے پہلے نہ ملاجائے کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے اور جو شخص کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدتا ہے جس کے تھن بندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے پھولے ہوئے ہوں تو جب وہ دودھ دوہے (اور اس پر اصلیت ظاہر ہوجائے) تو اسے دو میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کرلینا جائز ہے (یا تو اسے اسی حال میں اپنے پاس رکھ لے) اور اگر واپس کرنا چاہتا ہے تو اس کے ساتھ ایک صاع گندم (یا کجھور) بھی دے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18819]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18820 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، رَجُلٍ
40 حَدَّثَنَا 40 حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ، وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور اور کشمش اور کھجور سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18820]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18821 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: لَا يُتَلَقَّى جَلَبٌ، وَلَاَ يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَمَنْ اشْتَرَى مُصَرَّاةً، فَهُوَ فِيهَا بِآخِرِ النَّظَرَيْنِ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ إِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا باہر سے آنے والے تاجروں سے پہلے نہ ملاجائے کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے اور جو شخص کوئی ایسی بکری یا اونٹنی خریدتا ہے جس کے تھن بندھے ہوئے ہونے کی وجہ سے پھولے ہوئے ہوں تو جب وہ دودھ دوہے (اور اس پر اصلیت ظاہر ہوجائے) تو اسے دو میں سے کسی ایک صورت کو اختیار کرلینا جائز ہے (یا تو اسے اسی حال میں اپنے پاس رکھ لے) اور اگر واپس کرنا چاہتا ہے تو اس کے ساتھ ایک صاع گندم (یاکجھور) بھی دے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18821]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18822 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحِجَامَةِ وَالْمُوَاصَلَةِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ؟ فَقَالَ: " إِنْ أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ، فَرَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18822]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18823 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَالْمُوَاصَلَةِ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ؟ فَقَالَ: " إِنِّي أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ، وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18823]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18824 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، بَعْضِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَصْبَحَ النَّاسُ لِتَمَامِ ثَلاَثِينَ يَوْمًا، فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ، فَشَهِدَا أَنَّهُمَا أَهَلاَّهُ بِالَأْْمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے ماہ رمضان کے ٣٠ ویں دن بھی روزہ رکھا ہوا تھا کہ دودیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شہادت دی کہ کل رات انہوں نے عید کا چاند دیکھا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18824]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18825 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، بَعْضِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ أَوْ تَرَوْا الْهَِلَالََ، وَصُومُوا وَلَاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ أَوْ تَرَوْا الْهِلَاَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگلا مہینہ اس وقت تک شروع نہ کیا کرو جب تک گنتی مکمل نہ ہوجائے یا چاند نہ دیکھ لو پھر روزہ رکھا کرو اسی طرح اس وقت تک عیدالفطر نہ منایا کرو جب تک گنتی مکمل نہ ہوجائے یا چاند نہ دیکھ لو۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18825]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18826 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ، وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور اور کشمش اور کھجور سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح