بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 18777 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، الْمُغِيرَةُ ، شِبَاك ، عَامِرٍ ، فُلَاَنٌ الثَّقَفِيُّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ ، عَنْ شِبَاك ، ٍعَنْ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنِي فُلَاَنٌ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاَثٍ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ، سَأَلْنَاهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْنَا أَبَا بَكْرَةَ وَكَانَ مَمْلُوكًا وَأَسْلَمَ قَبْلَنَا، فَقَالَ: " لَا، هُوَ طَلِيقُ اللَّهِ، ثُمَّ طَلِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ثُمَّ سَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الشِّتَاءِ، وَكَانَتْ أَرْضُنَا أَرْضًا بَارِدَةً يَعْنِي فِي الطَّهُورِ، فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يُرَخِّصَ لَنَا فِي الدُّبَّاءِ فَلَمْ يُرَخِّصْ لَنَا فِيهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک ثقفی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تین چیزوں کی درخواست کی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں رخصت نہیں دی، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارا علاقہ بہت ٹھنڈا ہے ہمیں نماز سے قبل وضو نہ کرنے کی رخصت دے دیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی پھر ہم نے کدو کے برتن کی اجازت مانگی تو اس وقت اس کی بھی اجازت نہیں دی پھر ہم نے درخواست کی کہ ابوبکرہ کو ہمارے حوالے کردیں؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکار کیا اور فرمایا وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس وقت طائف کا محاصرہ کیا تھا تو حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں سے نکل کر اسلام قبول کرلیا تھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18777]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، على بن عاصم ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف ، على بن عاصم ضعيف، لكنه توبع