بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 18773 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْحَجِّ بِعَرَفَةَ فَقَالَ: " الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ، أَوْ عَرَفَاتٍ وَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاَثَةٌ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرفہ کے دن حج کے متعلق پوچھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حج تو ہوتا ہی عرفہ کے دن ہے جو شخص مزدلفہ کی رات نماز فجر ہونے سے پہلے بھی میدان عرفات کو پالے تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور منٰی کے تین دن ہیں سو جو شخص پہلے ہی دو دن میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو بعد میں آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18773]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18774 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ ، يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ الْحَجُّ؟ فَقَالَ: " الْحَجُّ عَرَفَةُ، فَمَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاَثَةُ أَيَّامٍ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ، وَمَنْ تَأَخَّرَ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ"، ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَهُ، فَجَعَلَ يُنَادِي بِهِنَّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرفہ کے دن حج کے متعلق پوچھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حج تو ہوتا ہی عرفہ کے دن ہے جو شخص مزدلفہ کی رات نماز فجر ہونے سے پہلے بھی میدان عرفات کو پالے تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور منٰی کے تین دن ہیں سو جو شخص پہلے ہی دو دن میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو بعد میں آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے پیچھے بٹھالیا جو ان باتوں کی منادی کرنے لگا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18774]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18775 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْحَجِّ، فَقَالَ: " الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَاتٍ، أَوْ عَرَفَةَ، مَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ، فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرفہ کے دن حج کے متعلق پوچھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ حج تو ہوتا ہی عرفہ کے دن ہے جو شخص مزدلفہ کی رات نماز فجر ہونے سے پہلے بھی میدان عرفات کو پالے تو اس کا حج مکمل ہوگیا اور منٰی کے تین دن ہیں سو جو شخص پہلے ہی دو دن میں واپس آجائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو بعد میں آجائے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18775]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح