بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 18721 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ قَدْ حَجَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ يَوْمَ عَرَفَةَ عَلَى بَعِيرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ " جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا " کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عرفہ کے دن اپنے اونٹ پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18721]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18722 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَبُو مَالِكٍ الْأَََشْجَعِيُّ ، نُبَيْطُ بْنُ شَرِيطٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَََشْجَعِيُّ ، حَدَّثَنِي نُبَيْطُ بْنُ شَرِيطٍ ، قَالَ: إِنِّي لَرَدِيفُ أَبِي فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، إِذْ تَكَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُمْتُ عَلَى عَجُزِ الرَّاحِلَةِ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى عَاتِقِ أَبِي، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" أَيُّ يَوْمٍ أَحْرَمُ؟" قَالُوا: هَذَا الْيَوْمُ، قَالَ:" فَأَيُّ بَلَدٍ أَحْرَمُ؟" قَالُوا: هَذَا الْبَلَدُ، قَالَ:" فَأَيُّ شَهْرٍ أَحْرَمُ؟" قَالُوا: هَذَا الشَّهْرُ، قَالَ:" فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، هَلْ بَلَّغْت؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں اپنے والد صاحب کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب خطبہ شروع فرمایا تو میں اپنی سواری کے پچھلے حصے پر کھڑا ہوگیا اور اپنے والد کے کندھے پر ہاتھ رکھ لئے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کون سا دن سب سے زیادہ حرمت والا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آج کا دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا سب زیادہ حرمت والا شہر کون سا ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا یہی شہر (مکہ) پھر پوچھا کہ سب سے زیادہ حرمت والا مہینہ کون سا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا موجودہ مہینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تمہاری جان اور مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام و حرمت ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں، اس مہینے کے اس دن کی حرمت ہے کیا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ! تو گواہ رہ اے اللہ! تو گواہ رہ۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18722]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18723 مسند احمد
عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ ، أَبِي
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ ، قَالَ: كَانَ أَبِي وَجَدِّي وَعَمِّي مع النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَشِيَّةَ عَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کیا تھا " کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عرفہ کے دن اپنے سرخ اونٹ پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھا۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18723]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18724 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي الْأَشْجَعِيَّ ، وَسَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، أَبِيهِ ، سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيُّ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا رَافِعُ بْنُ سَلَمَةَ يَعْنِي الْأَشْجَعِيَّ ، وَسَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ نُبَيْطٍ الْأَشْجَعِيُّ ، أَنَّ أَبَاهُ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ رِدْفًا خَلْفَ أَبِيهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ. قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبةَ، أَرِنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُمْ، فَخُذْ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، قَالَ: فَقُمْتُ، فَأَخَذْتُ بِوَاسِطَةِ الرَّحْلِ، فَقَالَ: انْظُرْ إِلَى صَاحِبِ الْجَمَلِ اْلأَحْمَرِ الَّذِي يُومِئُ بِيَدِهِ، فِي يَدِهِ الْقَضِيبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نبی ط رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میں اپنے والد صاحب کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا میں نے اپنے والد صاحب سے کہا اباجان! مجھے دکھائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا کھڑے ہو کر کجاوے کو پکڑ لو چناچہ میں نے ایسا ہی کیا انہوں نے کہا کہ اس سرخ اونٹ والے کو دیکھو جو اپنے ہاتھ سے اشارے کررہا ہے اور اس کے ہاتھ میں چھڑی بھی ہے۔ [مسند احمد/تتمہ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18724]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه