أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، مَنْصُورٌ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ، سَلَمَةَ بْنَ يَزِيدَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، قَالَ: أَتَى قَوْمٌ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالُوا: مَا تَرَى فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً؟. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَشْجَعَ. قَالَ مَنْصُورٌ: أُرَاهُ سَلَمَةَ بْنَ يَزِيدَ ، فَقَالَ: فِي مِثْلِ هَذَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَّا امْرَأَةً مِنْ بَنِي رُؤَاسٍ يُقَالُ لَهَا: بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ، فَخَرَجَ مَخْرَجًا، فَدَخَلَ فِي بِئْرٍ، فَأَسِنَ، فَمَاتَ، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " كَمَهْرِ نِسَائِهَا، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں بروع بنت واشق رضی اللہ عنہ کے واقعے کی تفصیل بھی مذکور ہے کہ ہم میں سے ایک آدمی نے بنو رؤس اس کی ایک عورت بروع بنت واشق سے نکاح کیا اتفاقاً اسے کہیں جانا پڑگیا راستے میں وہ ایک کنوئیں میں اترا وہ اسی کنوئیں کی بدبو سے چکرا کر گر اور اسی میں مرگیا مہر بھی مقرر نہیں کیا تھا، وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس عورت کو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوسکتا ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہ ہوگی اسے میراث بھی ملے گی اور اس ذمے عدت بھی واجب ہوگی،۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18461]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، أبو سعيد روي له البخاري متابعة
الحكم: حديث صحيح، أبو سعيد روي له البخاري متابعة