مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، الْأَجْلَحُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" . ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم علاج معالجہ کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو جو جان لیتا ہے وہ جان لیتا ہے اور جو ناواقف رہتا ہے وہ ناواقف رہتا ہے اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! سب سے بہترین انسان کون ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18456]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل مصعب بن سلام
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل مصعب بن سلام