بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 18453 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا " أَصْحَابُهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمْ الطَّيْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18453]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18454 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، أُسَامَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ، كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمْ الطَّيْرُ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقَعَدْتُ، قَالَ: فَجَاءَتْ الْأَعْرَابُ، فَسَأَلُوهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَتَدَاوَى؟ قَالَ:" نَعَمْ، تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ الْهَرَمُ" . قَال وَكَانَ أُسَامَةُ حِينَ كَبِرَ يَقُولُ: هَلْ تَرَوْنَ لِي مِنْ دَوَاءٍ الْآنَ؟! قَال: وَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ، هَلْ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ:" عِبَادَ اللَّهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ إِلَّا امْرَأً اقْتَرضَ امْرَأً مُسْلِمًا ظُلْمًا، فَذَلِكَ حَرَجٌ وَهُلْكٌ" . قَالُوا: مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " خُلُقٌ حَسَنٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ایسے بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کرکے بیٹھ گیا اسی دوران کچھ دیہاتی لوگ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم علاج معالجہ کرسکتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو سوائے ایک بیماری ' بڑھاپے " کے اسی وجہ سے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ اپنے بڑھاپے میں لوگوں سے کہتے تھے کہ اب تمہیں میرے لئے کوئی دوا مل سکتی ہے؟ پھر ان آنے والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ چیزوں کے متعلق دریافت کیا کہ کیا فلاں فلاں چیز میں ہم پر کوئی حرج تو نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بندگان خدا! اللہ نے حرج کو ختم فرمادیا ہے سوائے اس شخص کے جو کسی مسلمان کی ظلماً آبروریزی کرتا ہے کہ یہ گناہ اور باعث ہلاکت ہے، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! انسان کو سب سے بہترین کون سی چیز دی گئی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حسن اخلاق۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18454]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18455 مسند احمد
ابْنُ زِيَادٍ يَعْنِي الْمُطَّلِبَ بْنَ زِيَادٍ ، زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ زِيَادٍ يَعْنِي الْمُطَّلِبَ بْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنَزِّلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ مَعَهُ شِفَاءً، إِلَّا الْمَوْتَ وَالْهَرَمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندو! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو سوائے ایک بیماری ' بڑھاپے " کے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18455]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18456 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، الْأَجْلَحُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: " أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا" . ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: " تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم علاج معالجہ کرسکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! علاج کیا کرو کیونکہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں رکھی جس کا علاج نہ رکھا ہو جو جان لیتا ہے وہ جان لیتا ہے اور جو ناواقف رہتا ہے وہ ناواقف رہتا ہے اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! سب سے بہترین انسان کون ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کے اخلاق اچھے ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18456]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل مصعب بن سلام
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل مصعب بن سلام