بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 18276 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: تَنَاوَلْتُ قِدْرًا لِأُمِّي، فَاحْتَرَقَتْ يَدِي، فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ يَدِي، وَلَا أَدْرِي مَا يَقُولُ، أَنَا أَصْغَرُ مِنْ ذَاكَ، فَسَأَلْتُ أُمِّي، فَقَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے ہاتھ پر ایک ہانڈی گرگئی میری والدہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی خاص جگہ پر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لئے دعاء فرمائی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما اور شاید یہ بھی فرمایا کہ تو اسے شفاء عطاء فرما کیونکہ شفاء دینے والا تو ہی ہے نبی کریم نے اس کے بعد مجھ پر اپنا لعاب دہن لگایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18276]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18277 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: دَنَوْتُ إِلَى قِدْرٍ لَنَا، فَاحْتَرَقَتْ يَدِي قَالَ إِبْرَاهِيمُ: أَوْ قَالَ: فَوَرِمَتْ، قَالَ: فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ، " فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، وَجَعَلَ يَنْفُثُ" ، فَسَأَلْتُ أُمِّي فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ: مَنْ الرَّجُلُ؟ فَقَالَتْ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں پاؤں کے بل چلتا ہوا ہانڈی کے پاس پہنچ گیا وہ ابل رہی تھی میں نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ سوج گیا یا جل گیا میری والدہ مجھے ایک شخص کے پاس لے گئیں جو مقام بطحاء میں تھا اس نے کچھ پڑھا اور میرے ہاتھ پر تھتکار دیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا؟ انہوں نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18277]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شريك، وسياقه صحيح
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شريك، وسياقه صحيح
حدیث نمبر: 18278 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَرْضًا ذَاتَ نَخْلٍ، فَاخْرُجُوا" ، فَخَرَجَ حَاطِبٌ وَجَعْفَرٌ فِي الْبَحْرِ، قِبَلَ النَّجَاشِيِّ، قَالَ: فَوُلِدْتُ أَنَا فِي تِلْكَ السَّفِينَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومالک اشجعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے خواب میں کھجوروں والا ایک علاقہ دیکھا ہے لہٰذا تم اس کی طرف ہجرت کر جاؤ چناچہ حاطب رضی اللہ عنہ (میرے والد) اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سمندری راستے کے ذریعے نجاشی کی طرف روانہ ہوگئے میں اسی سفر میں کشتی میں پیدا ہوا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18278]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 18279 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو بَلْجٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ وَضَرْبُ الدُّفِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال و حرام کے درمیان فرق دف بجانے اور نکاح کی تشہیر کرنے سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18279]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18280 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بَلْجٍ ، لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ : إِنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَتَيْنِ لَمْ يُضْرَبْ عَلَيَّ بِدُفٍّ، قَالَ: بِئْسَمَا صَنَعْتَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْبَ بِالدُّفِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال و حرام کے درمیان فرق دف بجانے اور نکاح کی تشہیر کرنے سے ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18280]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18281 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ ، قَالَ: وَقَعَتْ الْقِدْرُ عَلَى يَدِي، فَاحْتَرَقَتْ يَدِي، فَانْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَتْفُلُ فِيهَا، وَيَقُولُ: " أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ" وَأَحْسِبُهُ قَالَ:" وَاشْفِهِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے ہاتھ پر ایک ہانڈی گرگئی میری والدہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے گئیں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی خاص جگہ پر تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لئے دعاء فرمائی کہ اے لوگوں کے رب! اس تکلیف کو دور فرما اور شاید یہ بھی فرمایا کہ تو اسے شفاء عطاء فرما کیونکہ شفاء دینے والا تو ہی ہے نبی کریم نے اس کے بعد مجھ پر اپنا لعاب دہن لگایا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18281]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن