بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 18050 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْعَوَّامُ ، عَبْدُ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِيُّ ، رَجُلٌ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ الْخَوْلَانِيُّ ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا كَعْبٌ يَقُصُّ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: كَعْبٌ يَقُصُّ. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ" . قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ كَعْبًا، فَمَا رُئِيَ يَقُصُّ بَعْدُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالجبار خولانی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو کعب احبار رحمہ اللہ وعظ کہہ رہے تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کعب ہیں جو وعظ کہہ رہے ہیں، انہوں فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وعظ یا تو امیر کہہ سکتا ہے، یا جسے اس کی اجازت ہو یا شیخی خور ہو، کعب رحمہ اللہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس کے بعد انہیں وعظ کہتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18050]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالجبار الخولاني مجهول الحال
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبدالجبار الخولاني مجهول الحال