بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ جَدِّ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 18046 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ التَّيْمِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيلٍ زُهْرَةُ بْنُ مَعْبَدٍ التَّيْمِيُّ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامٍ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَتْ بِهِ أُمُّهُ زَيْنَبُ ابْنَةُ حُمَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ صَغِيرٌ" فَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَدَعَا لَهُ، وَكَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الْوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہیں ان کی والدہ زینب بنت حمید نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بیعت کرلیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابھی یہ بچہ ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور انہیں دعائیں دیں، وہ اپنے تمام اہل خانہ کی طرف سے صرف ایک بکری قربانی میں پیش کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7201
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7201
حدیث نمبر: 18047 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ زُهْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا نَفْسِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ نَفْسِهِ". فَقَالَ عُمَرُ: فَلَأَنْتَ الْآنَ وَاللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْآنَ يَا عُمَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بخدا! اب آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر! اب بات بنی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 18047]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لكنه توبع