بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 17983 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ ، عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْيَدُ الْمُعْطِيَةُ خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے دینے والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17983]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد لأجل محمد بن عطية
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى الشواهد لأجل محمد بن عطية
حدیث نمبر: 17984 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ ، عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِي ، جَدِّي
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَشَاطَ السُّلْطَانُ، تَسَلَّطَ الشَّيْطَانُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب بادشاہ بلاوجہ قہق ہے لگاتا ہے تو اس پر شیطان غالب آجاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17984]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن عطية
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن عطية
حدیث نمبر: 17985 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو وَائِلٍ صَنْعَانِيٌّ مُرَادِيٌّ ، عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِي ، عَطِيَّةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو وَائِلٍ صَنْعَانِيٌّ مُرَادِيٌّ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: إِذْ أُدْخِلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَكَلَّمَهُ بِكَلَامٍ أَغْضَبَهُ، قَالَ: فَلَمَّا أَنْ غَضِبَ قَامَ، ثُمَّ عَادَ إِلَيْنَا وَقَدْ تَوَضَّأَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَطِيَّةَ ، وَقَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ، وَإِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ، فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو وائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ عروہ بن محمد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اس نے کچھ ایسی باتیں کیں جن سے وہ غصے میں آگئے، جب انہیں غصہ زیادہ محسوس ہونے لگا تو وہ اٹھ کر چلے گئے، تھوڑی دیر بعد واپس آئے تو انہوں نے وضو کیا ہوا تھا اور کہنے لگے کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہمنشینی کا شرف بھی حاصل تھا، بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا غصہ شیطان کا اثر ہوتا ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے، اس لئے جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہئے کہ وضو کرلے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17985]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، أبو وائل ضعيف، والد عروة بن محمد مجهول، وقد انفرد بهذا الحديث
الحكم: إسناده ضعيف، أبو وائل ضعيف، والد عروة بن محمد مجهول، وقد انفرد بهذا الحديث