مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، ابْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا أَوَانُ ذَهَابِ الْعِلْمِ". قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ:" هَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ الْعِلْمِ". فَقُلْتُ: وَكَيْفَ وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ نُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا، وَيُعَلِّمُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ؟! قَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ لَبِيدٍ، مَا كُنْتُ أَحْسَبُكَ إِلَّا مِنْ أَعْقَلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَلَيْسَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى فِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى؟" . قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ:" أَلَيْسَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى فِيهِمْ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ ثُمَّ لَمْ يَنْتَفِعُوا مِنْهُ بِشَيْءٍ؟" أَوْ قَالَ:" أَلَيْسَ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى، أَوْ أهل الكتاب شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِك فِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ یہ علم ضائع ہونے کے وقت ہوگا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم خود بھی قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں، پھر وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور یہ سلسلہ یونہی قیامت تک چلتا رہے گا تو علم کیسے ضائع ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابن ام لبید! تیری ماں تجھے گم کر کے روئے، میں تو سمجھتا تھا کہ تم مدینہ کے بہت سمجھدار آدمی ہو، کیا یہ یہود و نصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے؟ دراصل یہ لوگ اس میں موجود تعلیمات سے معمولی سا فائدہ بھی نہیں اٹھاتے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17920]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، سالم لم يسمع من زياد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، سالم لم يسمع من زياد