يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الدِّيلِ، قَالَ: صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فِي بَيْتِي، ثُمَّ خَرَجْتُ بِأَبَاعِرَ لِي لِأُصْدِرَهَا إِلَى الرَّاعِي، فَمَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الظُّهْرَ، فَمَضَيْتُ، فَلَمْ أُصَلِّ مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْدَرْتُ أَبَاعِرِي وَرَجَعْتُ، ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي: " مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَنَا حِينَ مَرَرْتَ بِنَا؟" قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ كُنْتُ صَلَّيْتُ فِي بَيْتِي. قَالَ:" وَإِنْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو دیل کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ظہر کی نماز اپنے گھر میں پڑھی اور اپنے اونٹوں کو لے کر نکلا تاکہ چرواہوں کے حوالے کر دوں، راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے میرا گذر ہوا جو لوگوں کو نماز ظہر پڑھا رہے تھے، میں وہاں سے گذر گیا تھے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو علم ہوا تو فرمایا تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روکا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگرچہ تم نماز پڑھ چکے تھے (پھر بھی تمہیں نفلی نماز کی نیت سے شریک ہونا چاہئے تھا) [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17890]
الحكم: إسناده حسن