بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 17782 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَمْرِو بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: بَيْنَا هُوَ يَمْشِي قَدْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ، إِذْ لَحِقَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَخَذَ بِنَاصِيَةِ نَفْسِهِ، وَهُوَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ"، قَالَ عَمْرٌو: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ حَمْشُ السَّاقَيْنِ. فَقَالَ:" يَا عَمْرُو، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ، يَا عَمْرُو"، وَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِ أَصَابِعَ مِنْ كَفِّهِ الْيُمْنَى تَحْتَ رُكْبَةِ عَمْرٍو، فَقَالَ:" يَا عَمْرُو، هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ"، ثُمَّ رَفَعَهَا، ثُمَّ ضَرَبَ بِأَربع أَصَابعَ من تحت الأربعِ الأُوَلِ، ثُمَّ قال:" يا عَمْرُو، هَذَا مَوْضِعُ الإِزَارِ"، ثُمَّ رَفَعَهَا ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ الثَّانِيَةِ، فَقَالَ:" يَا عَمْرُو، هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کہیں جا رہے تھے، ان کا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹک رہا تھا، اسی دوران نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے قریب پہنچ گئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی پیشانی پکڑ کر یہ کہہ رہے تھے اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، تیری بندی کا بیٹا ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری پنڈلیاں بڑی پتلی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمرو! اللہ نے ہر چیز کو بہترین انداز میں تخلیق فرمایا ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچے ماریں اور فرمایا عمرو! یہ ہے تہبند باندھنے کی جگہ، پھر اس کے نیچے ہاتھ رکھ کر چار انگلیان ماریں اور فرمایا عمرو! یہ ہے تہبند باندھنے کی جگہ، پھر تیسری مرتبہ اس کے نیچے چار انگلیاں رکھ کر بھی یہی جملہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17782]
حکم دارالسلام
صحيح، القاسم بن عبدالرحمن لم يروه عن عمرو الأنصاري
الحكم: صحيح، القاسم بن عبدالرحمن لم يروه عن عمرو الأنصاري