بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عَمرِو بنِ خَارِجَةَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 9
حدیث نمبر: 17663 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، لَيْثٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، مَنْ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وعَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ ، قَالَ: لَيْثٌ فِي حَدِيثِهِ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ، فَقَالَ: " أَلَا إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِي وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِي"، وَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ كَاهِلِ نَاقَتِهِ، فَقَالَ:" وَلَا مَا يُسَاوِي هَذِهِ أَوْ مَا يَزِنُ هَذِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17663]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث وشهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث وشهر بن حوشب
حدیث نمبر: 17664 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، ابْنُ جَعْفَرٍ ، سعيد ، مَطَرٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، فَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ. الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ" ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : وَقَالَ سعيد : وَقَالَ مَطَرٌ :" لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ". قَالَ يزيد في حديثه:" لا يُقْبَلُ منه صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ"، أو" عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ". قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17664]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 17665 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، قَتَادَةُ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، هَمَّامٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ: كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قد أَعْطَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَيْسَ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ. الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ" . قَالَ عَفَّانُ: وَزَادَ فِيهِ هَمَّامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُذْكَرْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ وَإِنِّي لَتَحْتَ جِرَانِ رَاحِلَتِهِ. وَزَادَ فِيهِ:" لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ". وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ وَقَالَ:" رَغْبَةً عَنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17665]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 17666 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ، وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قد أَعْطَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17666]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 17667 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَرِيكٌ ، لَيْثٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الثُّمَالِيِّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ الثُّمَالِيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهَدْيِ يَعْطَبُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْحَرْ وَاصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ، وَاضْرِبْ بِهِ عَلَى صَفْحَتِهِ أَوْ قَالَ: جَنْبِهِ وَلَا تَأْكُلَنَّ مِنْهُ شَيْئًا أَنْتَ وَلَا أَهْلُ رُفْقَتِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہدی کے اس جانور کے متعلق پوچھا جو مرنے کے قریب ہو؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کردو، اس کے نعل کو خون میں رنگ دو اور اس کی پیشانی یا پہلو پر لگا دو اور خود تم یا تمہارے رفقاء اس میں سے کچھ نہ کھاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17667]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر وشريك وليث
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر وشريك وليث
حدیث نمبر: 17668 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، لَيْثٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَمْرٍو الثَّمَالِيِّ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَمْرٍو الثَّمَالِيِّ ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعِي هَدْيًا، وَقَالَ: " إِذَا عَطِبَ شَيْءٌ مِنْهَا فَانْحَرْهُ، ثُمَّ اضْرِبْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ، ثُمَّ اضْرِبْ بِهِ صَفْحَتَهُ، وَلَا تَأْكُلْ أَنْتَ وَلَا أَهْلُ رُفْقَتِكَ، وَخَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہدی کے اس جانور کے متعلق پوچھا جو مرنے کے قریب ہو تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کردو، اس کے نعل کو خون میں رنگ دو اور اس کی پیشانی یا پہلو پر لگادو اور خود تم یا تمہارے رفقاء اس میں سے کچھ نہ کھاؤ بلکہ اسے لوگوں کے درمیان چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17668]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 17669 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ الْخُشَنِيَّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ خَارِجَةَ الْخُشَنِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهُمْ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنَّ رَاحِلَتَهُ لَتَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا لَيَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قد قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، وَلَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ. الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ. أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا" أَوْ" عَدْلًا وَلَا صَرْفًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17669]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 17670 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، سَعِيدٌ ، مَطَرٌ ، شَهْرِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الْخَفَّافُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنِّي لَتَحْتَ جِرَانِ نَاقَتِهِ، وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَلُعَابُهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ، فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، وَلَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ، أَلَا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، أَلَا وَمَنْ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ رَغْبَةً عَنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ" . قَالَ سَعِيدٌ : وَحَدَّثَنَا مَطَرٌ ، عَنْ شَهْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلِهِ، وَزَادَ مَطَرٌ فِي الْحَدِيثِ:" وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: قَالَ مَطَرٌ" وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (منی کے میدان میں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی اونٹنی پر (جو جگالی کر رہی تھی اور اس کا لعاب میرے دونوں کندھوں کے درمیان بہہ رہا تھا) خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یاد رکھو میرے لئے اور میرے اہل بیت کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے، پھر اپنی اونٹنی کے کندھے سے ایک بال لے کر فرمایا اس کے برابر بھی نہیں اس شخص پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے یا جو اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور سے موالات کرے، اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوں گے، بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، اس لئے وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ بھی اضافہ ہے کہ اس کی کوئی فرض یا نفل عبادت قبول نہیں کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17670]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 17671 مسند احمد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: قَالَ مَطَرٌ" وَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ"
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب