بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث سَهلِ ابنِ الحَنظَلِیَّةِ رَضِیَ اللَّه عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 17622 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ ، أَبِي ، ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ ، وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَحِّدًا، قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ، إِنَّمَا هُوَ فِي صَلَاةٍ، فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ، فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً، فَقَدِمْتْ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِي فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: لَوْ رَأَيْتَنَا حِينَ الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْعَدُوَّ، فَحَمَلَ فُلَانٌ فَطَعَنَ، فَقَالَ: خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ. كَيْفَ تَرَى فِي قَوْلِهِ؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ أَبْطَلَ أَجْرَهُ. فَسَمِعَ ذَلِكَ آخَرُ، فَقَالَ: مَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا. فَتَنَازَعَا حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " سُبْحَانَ اللَّهِ، لَا بَأْسَ أَنْ يُحْمَدَ وَيُؤْجَرَ" . قَالَ: فَرَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ سُرَّ بِذَلِكَ، وَجَعَلَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، وَيَقُولُ: آنْتَ سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَمَا زَالَ يُعِيدُ عَلَيْهِ حَتَّى إِنِّي لَأَقُولُ لَيَبْرُكَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بشر تغلبی جو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم جلیس تھے کہتے ہیں کہ دمشق میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ رہتے تھے جنہیں ابن حنظلہ کہا جاتا تھا، وہ گوشہ نشین طبعیت کے آدمی تھے اور لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتے تھے، ان کی عادت تھی کہ وہ نماز پڑھتے رہتے تھے، اس سے فارغ ہوتے تو تسبیح وتکبیر میں مصروف ہوجاتے، اس کے بعد اپنے گھر چلے جاتے۔ ایک ہم لوگ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے پاس سے گذرے، تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ پہنچے اور آپ کو نقصان نہ پہنچے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا: جب وہ لشکر واپس آیا تو ان میں سے ایک آدمی آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ گیا اور اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے کہنے لگا کہ کاش! تم نے وہ منظر دیکھا ہوتا جب ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا تھا، اس موقع پر فلاں شخص نے اپنا نیزہ اٹھا کر کسی کافر کو مارتے ہوئے کہا یہ لو، میں غفاری نو جوان ہوں، اس کے اس جملے سے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تو اس نے اپنا ثواب ضائع کردیا، دوسرے آدمی کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ کہنے لگا کہ مجھے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا، اس پر دونوں میں جھگڑا ہوگیا، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی یہ بات سنی تو فرمایا سبحان اللہ! اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے اور اسے اجر بھی ملے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر بہت خوش ہوئے اور ان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگے کیا آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی کہ میں سوچنے لگا یہ انہیں گھٹنوں کے بل بٹھا کر ہی چھوڑیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17622]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17623 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، سُلَيْمَانَ أَبِي الرَّبِيعِ ، الْقَاسِمِ ، سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ: عَبْدُ الله: قَالَ أَبِي: هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ، وَلَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ مَوْلَى مُعَاوِيَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ، فَرَأَيْتُ أُنَاسًا مُجْتَمِعِينَ وَشَيْخًا يُحَدِّثُهُمْ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَكَلَ لَحْمًا فَلْيَتَوَضَّأْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
قاسم جو کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد دمشق میں داخل ہوا، وہاں میں نے کچھ لوگوں کا مجمع دیکھا جنہیں ایک بزرگ حدیث سنا رہے تھے، میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ ہیں، میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص گوشت کھائے، اسے چاہئے کہ نیا وضو کرے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17623]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة سليمان أبى الربيع
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة سليمان أبى الربيع
حدیث نمبر: 17624 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ ، أَبِيهِ ، ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ بِشْرٍ التَّغْلِبِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ جَلِيسًا لِأَبِي الدَّرْدَاءِ بِدِمَشْقَ قَالَ: كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ ، مُتَوَحِّدًا لَا يَكَادُ يُكَلِّمُ أَحَدًا، إِنَّمَا هُوَ فِي صَلَاةٍ، فَإِذَا فَرَغَ، يُسَبِّحُ وَيُكَبِّرُ وَيُهَلِّلُ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: فَمَرَّ عَلَيْنَا ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً مِنْكَ تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ. قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا أَنْ قَدِمْنَا جَلَسَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: يَا فُلَانُ، لَوْ رَأَيْتَ فُلَانًا طَعَنَ، ثُمَّ قَالَ: خُذْهَا وَأَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ، فَمَا تَرَى؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ حَبِطَ أَجْرُهُ. قَالَ: فَتَكَلَّمُوا فِي ذَلِكَ حَتَّى سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْوَاتَهُمْ، فَقَالَ: " بَلْ يُحْمَدُ وَيُؤْجَرُ" . قَالَ: فَسُرَّ بِذَلِكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ حَتَّى هَمَّ أَنْ يَجْثُوَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ مِرَارًا، قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بشر تغلبی جو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے ہم جلیس تھے کہتے ہیں کہ دمشق میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ رہتے تھے جنہیں ابن حنظلہ کہا جاتا تھا، وہ گوشہ نشین طبعیت کے آدمی تھے اور لوگوں سے بہت کم میل جول رکھتے تھے، ان کی عادت تھی کہ وہ نماز پڑھتے تھے رہتے، اس سے فارغ ہوتے تو تسبیح وتکبیر میں مصروف ہوجاتے، اس کے بعد اپنے گھر چلے جاتے۔ ایک ہم لوگ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ ہمارے پاس سے گذرے، تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ پہنچے اور آپ کو نقصان نہ پہنچے؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا: جب وہ لشکر واپس آیا تو ان میں سے ایک آدمی آکر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھ گیا اور اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی سے کہنے لگا کہ کاش! تم نے وہ منظر دیکھا ہوتا جب ہمارا دشمن سے آمنا سامنا ہوا تھا، اس موقع پر فلاں شخص نے اپنا نیزہ اٹھا کر کسی کافر کو مارتے ہوئے کہا یہ لو، میں غفاری نوجوان ہوں، اس کے اس جملے سے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میرے خیال میں تو اس نے اپنا ثواب ضائع کردیا، دوسرے آدمی کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو وہ کہنے لگا کہ مجھے تو اس میں کوئی حرج نظر نہیں آتا، اس پر دونوں میں جھگڑا ہوگیا، حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی یہ بات سنی تو فرمایا سبحان اللہ! اس میں تو کوئی حرج نہیں کہ اس کی تعریف کی جائے اور اسے اجر بھی ملے۔ میں نے دیکھا کہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر بہت خوش ہوئے اور ان کی طرف سر اٹھا کر کہنے لگے کیا آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات سنی ہے؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات اتنی مرتبہ دہرائی کہ میں سوچنے لگا یہ انہیں گھٹنوں کے بل بٹھا کر ہی چھوڑیں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17624]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17625 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، سَهْلَ ابْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيَّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ ابْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عُيَيْنَةَ، والْأَقْرَعَ سَأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، " فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا، فَفَعَلَ وَخَتَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَ بِدَفْعِهِ إِلَيْهِمَا". فَأَمَّا عُيَيْنَةُ، فَقَالَ: مَا فِيهِ؟ قَالَ: فِيهِ الَّذِي أُمِرْتُ بِهِ، فَقَبَّلَهُ وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ، وَأَمَّا الْأَقْرَعُ، فَقَالَ: أَحْمِلُ صَحِيفَةً لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ. فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا . وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، ثُمَّ مَرَّ بِهِ آخِرَ النَّهَارِ وَهُوَ عَلَى حَالِهِ، فَقَالَ:" أَيْنَ صَاحِبُ هَذَا الْبَعِيرِ؟" فَابْتُغِيَ فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ، ارْكَبُوهَا صِحَاحًا، وَكُلُوهَا سِمَانًا، كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا، إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ:" مَا يُغَدِّيهِ أَوْ يُعَشِّيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیینہ اور اقرع نے کچھ مانگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان کے لئے وہ چیز لکھ دیں، انہوں نے لکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر مہر لگائی اور وہ خط ان کے حوالے کردینے کا حکم دیا، عیینہ نے کہا کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تم نے جس کی خواہش کی تھی، عیینہ نے اسے چوما اور لپیٹ کر اپنے عمامے میں رکھ لیا، عیینہ ان دونوں سے زیادہ عقلمند تھا، جبکہ اقرع نے کہا کہ میں ملتمس کی طرح صحیفہ اٹھا کر پھرتا پھروں، جس کے متعلق مجھے معلوم نہیں کہ اس میں کیا لکھا ہے؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان دونوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے کسی کام سے نکلے تو دن کے پہلے حصے میں مسجد کے دروازے پر بیٹھے ہوئے ایک اونٹ کے پاس سے گذرے، جب دن کے آخری پہر میں وہاں سے گذرے تو وہ اونٹ اسی طرح بندھا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا اس اونٹ کا مالک کہاں ہے؟ تلاش کے باجود اس کا مالک نہیں ملا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان جانوروں کے بارے اللہ سے ڈرتے رہا کرو، ان پر اس وقت سوار ہوا کرو جب یہ تندرست اور صحت مند ہوں، پھر فرمایا جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا موجود ہو کہ جو اس کی ضرورت پوری کر دے، جیسے ابھی ایک ناراضگی ظاہر کرنے والے نے کیا تو وہ جہنم کے انگاروں میں اضافہ کرتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ضرورت سے کیا مراد ہے؟ فرمایا کھانا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17625]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح