بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث اَبِی عَبدِ اللَّهِ رَجل مِن اَصحَابِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 17593 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، دَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقَالُوا لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ مِنْ شَارِبِكَ، ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي؟" قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ بِيَمِينِهِ قَبْضَةً، وَأُخْرَى بِالْيَدِ الْأُخْرَى، وَقَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ، وَهَذِهِ لِهَذِهِ، وَلَا أُبَالِي" فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ جن کا نام ابو عبداللہ لیا جاتا تھا، کے پاس ان کے کچھ ساتھی عیادت کے لئے آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں، انہوں نے رونے کی وجہ پوچھی اور کہنے لگے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مونچھیں تراشو، پھر مستقل ایسا کرتے رہو یہاں تک کہ مجھ سے آملو؟ انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور دوسرے ہاتھ سے دوسری مٹھی بھری اور فرمایا یہ مٹھی ان جنتیوں کی ہے اور یہ مٹھی ان جہنمیوں کی ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، اب مجھے معلوم نہیں کہ میں کس مٹھی میں تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17593]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17594 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبَا عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ، فَبَكَى، فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ؟ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ مِنْ شَارِبِكَ، ثُمَّ أَقِرَّهُ حَتَّى تَلْقَانِي؟" قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ قَبْضَةً بِيَمِينِهِ، وَقَالَ: هَذِهِ لِهَذِهِ، وَلَا أُبَالِي. وَقَبَضَ قَبْضَةً أُخْرَى بِيَدِهِ الْأُخْرَى جَلَّ وَعَلَا، فَقَالَ هَذِهِ لِهَذِهِ، وَلَا أُبَالِي" فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو نضرہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ جن کا نام ابو عبداللہ لیا جاتا تھا، کے پاس ان کے کچھ ساتھی عیادت کے لئے آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں، انہوں نے رونے کی وجہ پوچھی اور کہنے لگے کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مونچھیں تراشو، پھر مستقل ایسا کرتے رہو یہاں تک کہ مجھ سے آملو؟ انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں، لیکن میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور دوسرے ہاتھ سے دوسری مٹھی بھری اور فرمایا یہ مٹھی ان جنتیوں کی ہے اور یہ مٹھی ان جہنمیوں کی ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں، اب مجھے معلوم نہیں کہ میں کس مٹھی میں تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17594]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح