بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث دكَینِ بنِ سَعِید الخَثعَمِیِّ عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 17576 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ، نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: " قُمْ فَأَعْطِهِمْ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَا يُقَيِّظُنِي وَالصِّبْيَةَ قَالَ وَكِيعٌ الْقَيْظُ فِي كَلَامِ الْعَرَبِ: أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ، قَالَ:" قُمْ فَأَعْطِهِمْ" قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمْعًا وَطَاعَةً. قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَصَعِدَ بِنَا إِلَى غُرْفَةٍ لَهُ، فَأَخْرَجَ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ. قَالَ دُكَيْنٌ: فَإِذَا فِي الْغُرْفَةِ مِنَ التَّمْرِ شَبِيهٌ بِالْفَصِيلِ الرَّابِضِ، قَالَ: شَأْنَكُمْ. قَالَ: فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا حَاجَتَهُ مَا شَاءَ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتُّ وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِهِمْ وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ مِنْهُ تَمْرَةً .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت دکین بعد سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17576]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17577 مسند احمد
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ ، وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ رَاكِبًا وَأَرْبَعَ مِئَةٍ، نَسْأَلُهُ الطَّعَامَ، فَقَالَ لِعُمَرَ: " اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بَقِيَ إِلَّا آصُعٌ مِنْ تَمْرٍ، مَا أَرَى أَنْ يُقَيِّظُنِي. قَالَ:" اذْهَبْ فَأَعْطِهِمْ" قَالَ: سَمْعًا وَطَاعَةً. قَالَ: فَأَخْرَجَ عُمَرُ الْمِفْتَاحَ مِنْ حُجْزَتِهِ، فَفَتَحَ الْبَابَ، فَإِذَا شِبْهُ الْفَصِيلِ الرَّابِضِ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ لنَا: خُذوا. فَأَخَذَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا مَا أَحَبَّ، ثُمَّ الْتَفَتُّ، وَكُنْتُ مِنْ آخِرِ الْقَوْمِ، وَكَأَنَّا لَمْ نَرْزَأْ تَمْرَةً ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت دکین بن سعید المزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہم لوگوں کی کل تعداد چار سو چالیس افراد تھی، ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس غلہ کی درخواست لے کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھو اور انہیں غلہ دو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس صرف اتنا غلہ ہے جو مجھے اور بچوں کو صرف چار مہینے کے لئے کافی ہوسکتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا حکم دوبارہ دہرایا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو آپ کا حکم، میں ابھی پورا کرتا ہوں، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے، ہم بھی ان کے ساتھ چل پڑے، وہ ہمیں لے کر اپنے ایک کمرے میں پہنچے، چابی نکالی اور دروازہ کھول دیا، دیکھا کہ کمرے میں بکری کے بچے کی طرح کھجور کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جتنا لینا چاہو، لے لو، چنانچہ ہم میں سے ہر شخص نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں، میں سب سے آخر میں تھا، میں نے جو غور کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ ہم سب نے مل کر بھی اس میں سے ایک کھجور تک کم نہیں کی۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17577]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17578 مسند احمد
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ وَأَرْبَعُ مِئَةٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17579 مسند احمد
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17580 مسند احمد
حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عن دُكَيْنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح