بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث سفیَانَ بنِ وَهب الخَولَانِیِّ ، عن النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 17535 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو عُشَّانَةَ ، سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيَّ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُشَّانَةَ ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ وَهْبٍ الْخَوْلَانِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ كَانَ تَحْتَ ظِلِّ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا حَدَّثَهُ ذَلِكَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ بَلَّغْتُ؟" فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُنَا، فَقُلْنَا: نَعَمْ. ثُمَّ أَعَادَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: " رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَرَامٌ: عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَنَفْسُهُ، حَرَمَهُ كَمَا حَرَمَ هَذَا الْيَوْمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سفیان بن وہب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری کے سائے تلے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک بلند جگہ سے خطاب فرما رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ ہم سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم سے جواب مانگ رہے ہیں چنانچہ ہم نے کہہ دیا جی ہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ اس جملے کو دہرایا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو باتیں فرمائی تھیں، ان میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اللہ کے راستے میں ایک شام کے لئے نکلنا دنیا و ماعلیہا سے بہتر ہے اور ایک صبح کے لئے اللہ کے راستے میں نکلنا دنیا وماعلیہا سے بہتر ہے اور ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی عزت و آبرو، مال و دولت اور جان کا احترام اسی طرح ضروری ہے جیسے آج کے دن کی حرمت ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17535]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبدالله بن لهيعة، فهو سيئ الحفظ
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل عبدالله بن لهيعة، فهو سيئ الحفظ