بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث فلَان مِن اَصحَابِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 17533 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، فُلَانٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ، ثُمَّ قَالَ عِكْرِمَةُ، حَدَّثَنِي فُلَانٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ تَمِيمٍ، عن هَذَا الْأَمْرِ. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُزَيْنَةَ، فَقَالَ: " مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ". وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا: أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ، قَالَ: فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذِهِ نَعَمُ قَوْمِي". وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ:" لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا، فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ عکرمہ بن خالد رحمہ اللہ کی موجودگی میں کسی شخص نے بنو تمیم کے ایک آدمی کی بےعزتی کی تو عکرمہ نے اسے مارنے کے لئے مٹھی میں بھر کر کنکریاں اٹھا لیں، پھر کہنے لگے کہ مجھ سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بنو تمیم کا ذکر ہونے لگا، تو ایک آدمی کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے ایمان قبول کرنے میں بڑی سستی کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلہ مزینہ کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ ان کی نسبت تو ان سے زیادہ کسی قوم نے تاخیر نہیں کی، اسی طرح ایک مرتبہ ایک شخص کہنے لگا کہ بنو تمیم کے اس قبیلے نے زکوٰۃ کی ادائیگی میں بڑی تاخیر کردی ہے، کچھ ہی عرصے بعد بنو تمیم کے سرخ و سیاہ جانور آگئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ میری قوم کے جانور ہیں، اس طرھ ایک مرتبہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں بنو تمیم کے حوالے سے نامناسب جملے کہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بنو تمیم کا ہمیشہ اچھے انداز میں ہی تذکرہ کیا کرو، کیونکہ دجال کے خلاف سب سے زیادہ لمبے نیزے ان ہی کے ہوں گے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17533]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح