بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث یَزِیدَ بنِ الاَسوَدِ العَامِرِیِّ مِمَّن نَزَلَ الشَّامَ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه ...
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 17474 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ الْعَامِرِيُّ ، عن أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، قَالَ: فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْمَسْجِدِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ، فَقَالَ:" عَلَيَّ بِهِمَا"، فَأُتِيَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، قَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟" قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ، فَصَلِّيَا مَعَهُمْ، فَإِنَّهَمَا لَكُمَا نَافِلَةٌ" . وَرُبَّمَا قِيلَ لِهُشَيْمٍ: فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ يَحْرِفُ. فَيَقُولُ: يَحْرِفُ عَنْ مَكَانِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17474]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17475 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عن أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ بِمِنًى، فَانْحَرَفَ، فَرَأَى رَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، فَدَعَا بِهِمَا، فَجِيءَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟" فَقَالَا: قَدْ كُنَّا صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ، فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ، فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17475]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17476 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عن أَبِيهِ ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ أَوْ الْفَجْرِ، قَالَ: ثُمَّ انْحَرَفَ جَالِسًا، وَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْهِهِ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ، فَقَالَ:" ائْتُونِي بِهَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ". قَالَ: فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَ النَّاسِ؟" قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي الرِّحَالِ. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ، ثُمَّ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ مَعَ الْإِمَامِ، فَلْيُصَلِّهَا مَعَهُ، فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ". قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، قَالَ: وَنَهَضَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَهَضْتُ مَعَهُمْ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ أَشَبُّ الرِّجَالِ وَأَجْلَدُهُ. قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَزْحَمُ النَّاسَ حَتَّى وَصَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا إِمَّا عَلَى وَجْهِي أَوْ صَدْرِي، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُ شَيْئًا أَطْيَبَ وَلَا أَبْرَدَ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: وَهُوَ يَوْمَئِذٍ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی پھر ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے لئے بخشش کی دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے دعاء کردی، پھر لوگ اٹھ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جانے لگے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس وقت بڑا مضبوط نوجوان تھا، میں رش میں اپنی جگہ بناتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے اپنے چہرے یا سینے پر ملنے لگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ مہک اور ٹھنڈک رکھنے والا کوئی ہاتھ نہیں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17476]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17477 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَشُعْبَةُ ، وَشَرِيكٌ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِيه ِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَشُعْبَةُ ، وَشَرِيكٌ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عن أَبِيه ِ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: قَالَ شَرِيكٌ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي. قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17477]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17478 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيَّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو النَّضْرِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، وَقَالَ: أَسْوَدُ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيَّ ، عن أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: ثُمَّ ثَارَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ يَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَمَسَحْتُ بِهَا وَجْهِي، فَوَجَدْتُهَا أَبْرَدَ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبَ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے لئے بخشش کی دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے دعاء کردی، پھر لوگ اٹھ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جانے لگے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس وقت بڑا مضبوط نوجوان تھا، میں رش میں اپنی جگہ بناتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے اپنے چہرے یا سینے پر ملنے لگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ مہک اور ٹھنڈک رکھنے والا کوئی ہاتھ نہیں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17478]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17479 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عن أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِمِنًى وَهُوَ غُلَامٌ شَابٌّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ لَمْ يُصَلِّيَا، فَدَعَا بِهِمَا فَجِيءَ بِهِمَا تُرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ لَهُمَا:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟" قَالَا: قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا. قَالَ:" فَلَا تَفْعَلَا، إِذَا صَلَّيْتُمْ فِي رِحَالِكُمْ ثُمَّ أَدْرَكْتُمْ الْإِمَامَ لَمْ يُصَلِّ، فَصَلِّيَا مَعَهُ، فَهِيَ لَكُمْ نَافِلَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت یزید بن اسود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا تھا، میں نے فجر کی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مسجد خیف میں پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ مسجد کے آخر میں دو آدمی بیٹھے ہیں اور نماز میں ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان دونوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ، جب انہیں لایا گیا تو وہ خوف کے مارے کانپ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ تم نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو، اگر تم اپنے خیموں میں نماز پڑھ چکے ہو، پھر مسجد میں جماعت کے وقت پہنچو تو نماز میں شریک ہوجایا کرو کہ یہ نماز نفلی ہوگی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17479]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح