أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيَّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو النَّضْرِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، وَقَالَ: أَسْوَدُ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ السُّوَائِيَّ ، عن أَبِيهِ ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: ثُمَّ ثَارَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ بِيَدِهِ يَمْسَحُونَ بِهَا وُجُوهَهُمْ، قَالَ: فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَمَسَحْتُ بِهَا وَجْهِي، فَوَجَدْتُهَا أَبْرَدَ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَطْيَبَ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے لئے بخشش کی دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے دعاء کردی، پھر لوگ اٹھ اٹھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جانے لگے، میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا، میں اس وقت بڑا مضبوط نوجوان تھا، میں رش میں اپنی جگہ بناتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچ گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کر اسے اپنے چہرے یا سینے پر ملنے لگا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک سے زیادہ مہک اور ٹھنڈک رکھنے والا کوئی ہاتھ نہیں دیکھا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد خیف میں تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17478]
الحكم: إسناده صحيح