بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث سَعدِ بنِ الاَطوَلِ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 17227 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَبِي نَضْرَةَ ، سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ ، قَالَ: مَاتَ أَخِي وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ، وَتَرَكَ وَلَدًا صِغَارًا، فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ، فَاذْهَبْ، فَاقْضِ عَنْهُ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَقَضَيْتُ عَنْهُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قَضَيْتُ عَنْهُ، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا امْرَأَةً تَدَّعِي دِينَارَيْنِ، وَلَيْسَتْ لَهَا بَيِّنَةٌ، قَالَ:" أَعْطِهَا، فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سعد بن اطول رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرا ایک بھائی فوت ہوگیا، اس نے تین سو دینار ترکے میں چھوڑے اور چھوٹے بچے چھوڑے، میں نے ان پر کچھ خرچ کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا بھائی مقروض ہو کر فوت ہوا ہے لہذا جا کر پہلے ان کا قرض ادا کرو، چنانچہ میں نے جا کر اس کا قرض ادا کیا اور حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے اپنے بھائی کا سارا قرض ادا کردیا ہے اور سوائے ایک عورت کے کوئی قرض خواہ نہیں بچا، وہ دو دیناروں کی مدعی ہے لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے سچا سمجھو اور اس کا قرض بھی ادا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17227]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، عبدالملك أبو جعفر مجهول، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح ، عبدالملك أبو جعفر مجهول، لكنه توبع