بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث بَعضِ مَن شَهِدَ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 17218 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، بَعْضُ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ بَعْضُ مَنْ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ: " إِنَّ هَذَا لَمِنْ أَهْلِ النَّارِ"، فَلَمَّا حَضَرَ الْقِتَالُ، قَاتَلَ الرَّجُلُ أَشَدَّ الْقِتَالِ، حَتَّى كَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ، فَأَتَاهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ الَّذِي ذَكَرْتَ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَقَدْ وَاللَّهِ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَشَدَّ الْقِتَالِ، وَكَثُرَتْ بِهِ الْجِرَاحُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ"، وَكَادَ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يَرْتَابَ، فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَى ذَلِكَ وَجَدَ الرَّجُلُ أَلَمَ الْجِرَاحِ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ الرَّجُلُ إِلَى كِنَانَتِهِ، فَانْتَزَعَ مِنْهَا سَهْمًا، فَانْتَحَرَ بِهِ، فَاشْتَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَدْ صَدَّقَ اللَّهُ حَدِيثَكَ، قَدْ انْتَحَرَ فُلَانٌ، فَقَتَلَ نَفْسَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
غزوہ خیبر میں شریک ہونے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جو (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا) اس کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جہنمی ہے، جب جنگ شروع ہوئی تو اس نے انتہائی بےجگری سے جنگ لڑی اور اسے کثرت سے زخم آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خدمت میں چند صحابہ آئے اور کہنے لگے، یا رسول اللہ! دیکھیے تو سہی، جس آدمی کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ یہ جہنمی ہے، بخدا اس نے تو راہ خدا میں بڑی بےجگری سے جنگ لڑی ہے اور اسے کثرت سے زخم آئے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا: وہ جہنمی ہے۔ قریب تھا کہ لوگ شک میں مبتلا ہو جاتے اس شخص کو اپنے زخموں کی بہت تکلیف محسوس ہوئی، اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اسے اپنے سینے میں گھونپ لیا۔ یہ دیکھ کر ایک شخص دوڑتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات سچ کر دکھائی اس شخص نے اپنے سینے میں تیر گھونپ کر خود کشی کر لی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح