أَبُو الْمُغِيرَةِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيُّ ، يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ ، الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مَلَأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، حَسْبُ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثُ طَعَامٍ، وَثُلُثُ شَرَابٍ، وَثُلُثٌ لِنَفْسِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن آدم نے پیٹ سے زیادہ بدترین کسی برتن کو نہیں بھرا، حالانکہ ابن آدم کے لئے تو اتنے لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں، اگر زیادہ کھانا ہی ضروری ہو تو ایک تہائی کھانا ہو، ایک تہائی پانی ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17186]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، إن صح سماع يحيى ابن جابر من المقدام بن معدي كرب فالحديث صحيح، وإلا فمنقطع
الحكم: رجاله ثقات، إن صح سماع يحيى ابن جابر من المقدام بن معدي كرب فالحديث صحيح، وإلا فمنقطع