بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث المِقدَامِ بنِ مَعدِی كَرِبَ الكِندِیِّ اَبِی كَرِیمَةَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه ...
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 35
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 17171 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، حَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، فَلْيُعْلِمْهُ أَنَّهُ يُحِبُّه" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہیے کہ اسے بتا دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17172 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٌ ، الشَّعْبِيِّ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا، كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ، إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبر گیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہو گیا، چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17173 مسند احمد
زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، مَنْصُورٌ ، عَامِرٍ ، أَبِي كَرِيمَةَ
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا، كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ، إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مہمان کی رات ہر مسلمان پر (اس کی خبرگیری کرنا) واجب ہے، اگر وہ اپنے میزبان کے صحن میں صبح تک محروم رہا تو وہ اس کا مقروض ہو گیا، چاہے تو ادا کر دے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17173]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، زياد بن عبدالله مختلف فيه، لكنه متابع
الحكم: حديث صحيح ، زياد بن عبدالله مختلف فيه، لكنه متابع
حدیث نمبر: 17174 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَرِيزٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَرِيزٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا إِنِّي أُوتِيتُ الْقُرْآنَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، لَا يُوشِكُ رَجُلٌ يَنْثَنِي شَبْعَانًا عَلَى أَرِيكَتِهِ يَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِالْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوهُ، وَمَا وَجَدْتُمْ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ فَحَرِّمُوهُ، أَلَا لَا يَحِلُّ لَكُمْ لَحْمُ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ، وَلَا كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، أَلَا وَلَا لُقَطَةٌ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا صَاحِبُهَا، وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمٍ، فَعَلَيْهِمْ أَنْ يَقْرُوهُمْ، فَإِنْ لَمْ يَقْرُوهُمْ، فَلَهُمْ أَنْ يُعْقِبُوهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یاد رکھو! مجھے قرآن کریم اور اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیا گیا ہے، یاد رکھو! مجھے قرآن کریم اور اس کے ساتھ کچھ اور بھی دیا گیا ہے، یاد رکھو! عنقریب ایک آدمی آئے گا جو تخت پر بیٹھ کر یہ کہے گا کہ قرآن کو اپنے اوپر لازم کر لو، صرف اس میں جو چیز تمہیں حلال ملے، اسے حلال سمجھو اور جو حرام ملے، اسے حرام سمجھو، یاد رکھو! تمہارے لیے پالتو گدھوں کا گوشت اور کوئی کچلی والا درندہ حلال نہیں ہے، کسی ذمی کے مال کی گری پڑی چیز بھی حلال نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کے مالک کو اس کی ضرورت نہ ہو، اور جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بنے، انہیں اس کی مہمان نوازی کرنی چاہیے، اگر وہ اس کی مہمان نوازی نہ کریں تو انہیں اجازت ہے کہ وہ اسی طرح ان کی بھی مہمان نوازی کریں۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17174]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17175 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، بُدَيْلٍ ، عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ كَلًّا، فَإِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَرُبَّمَا قَالَ: فَإِلَيْنَا، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَارِثِهِ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَرِثُهُ وَأَعْقِلُ عَنْهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کوئی بوجھ چھوڑ کر فوت ہو جائے، وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ داری میں ہے، اور جو شخص مال و دولت چھوڑ کر مر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہو گا، اور ماموں اس شخص کا وارث ہوتا ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، اور میں اس شخص کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہیں، میں اس کا وارث ہوں اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17175]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 17176 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، الْمِقْدَامِ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فَذَكَرَهُ، وَقَالَ: عَنِ الْمِقْدَامِ مِنْ كِنْدَةَ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری حدیث سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17176]
حکم دارالسلام
حديث جيد
الحكم: حديث جيد
حدیث نمبر: 17177 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ابْنِ الْمُبَارَكِ ، ثَوْرٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: غلہ ماپ کر لیا کرو، تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17177]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 17178 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبَا الْجُودِيِّ ، ابْنِ الْمُهَاجِرِ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْجُودِيِّ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ أَضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا كَانَ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرَهُ حَتَّى يَأْخُذَ بِقِرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان کسی قوم کے یہاں مہمان بنے لیکن وہ اپنے حق سے محروم رہے تو ہر مسلمان پر اس کی مدد کرنا واجب ہے، تاآنکہ اس رات کی مہمان نوازی کی مد میں میزبانوں کی فصل سے اور مال سے وصول کر لیا جائے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17178]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن المهاجر
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن المهاجر
حدیث نمبر: 17179 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَتَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ، فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم جو اپنے آپ کو کھلا دو، وہ صدقہ ہے، جو اپنے بچوں کو کھلا دو وہ بھی صدقہ ہے، جو اپنی بیوی کو کھلا دو وہ بھی صدقہ ہے اور جو اپنے خادم کو کھلا دو وہ بھی صدقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17179]
حکم دارالسلام
حديث حسن، بقية بن وليد- وإن دلس فى هذا الإسناد - متابع
الحكم: حديث حسن، بقية بن وليد- وإن دلس فى هذا الإسناد - متابع
حدیث نمبر: 17180 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ ، بَعْضِ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ بَعْضِ أَشْيَاخِ الْجُنْدِ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لَطْمِ خُدُودِ الدَّوَابِّ"، وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ جَعَلَ لَكُمْ عِصِيًّا وَسِيَاطًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جانوروں کے رخساروں پر طمانچہ مارنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے لیے لاٹھی اور کوڑے (سہارا) بنایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17180]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتدليس بقية، ولإبهام الرجل الذى روى عنه أرطاة بن المنذر
الحكم: إسناده ضعيف لتدليس بقية، ولإبهام الرجل الذى روى عنه أرطاة بن المنذر
حدیث نمبر: 17181 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا أَكَلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ طَعَامًا أَحَبَّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ انسان نے اللّٰہ کی نگاہوں میں اپنے ہاتھ کی کمائی سے زیادہ محبوب کوئی کھانا نہیں کھایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17181]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، خ: 2072، بقية - وإن دلس هنا - متابع
الحكم: حديث صحيح ، خ: 2072، بقية - وإن دلس هنا - متابع
حدیث نمبر: 17182 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَالْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، وَالْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ لِلشَّهِيدِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ الْحَكَمُ: سِتَّ خِصَالٍ: أَنْ يُغْفَرَ لَهُ فِي أَوَّلِ دَفْعَةٍ مِنْ دَمِهِ، وَيَرَى قَالَ الْحَكَمُ: وَيُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُحَلَّى حُلَّةَ الْإِيمَانِ، وَيُزَوَّجَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُجَارَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَيَأْمَنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ قَالَ الْحَكَمُ: يَوْمَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَيُوضَعَ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، الْيَاقُوتَةُ مِنْهُ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَيُزَوَّجَ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، وَيُشَفَّعَ فِي سَبْعِينَ إِنْسَانًا مِنْ أَقَارِبِهِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں شہید کے بہت سے مقامات ہیں، اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے معاف کر دیا جاتا ہے، جنت میں اسے اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذاب قبر سے محفوظ کر دیا جاتا ہے اور اسے فزع اکبر (بڑی گھبراہٹ) سے محفوظ کر دیا جاتا ہے، اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک ایک یاقوت دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا، بہتر حورعین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے، اس کے اعزہ و اقرباء میں سے ستر آدمیوں کے حق میں اس کی سفارش قبول کرلی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17182]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات غير إسماعيل بن عياش، فقد اضطرب فيه
الحكم: رجاله ثقات غير إسماعيل بن عياش، فقد اضطرب فيه
حدیث نمبر: 17183 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17183]
حکم دارالسلام
راجع ما قبله
الحكم: راجع ما قبله
حدیث نمبر: 17184 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللّٰہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17184]
حکم دارالسلام
حديث حسن، بقية يدلس تدليس التسوية، لكنه توبع
الحكم: حديث حسن، بقية يدلس تدليس التسوية، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17185 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ وَعَنْ مَيَاثِرِ النُّمُورِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مردوں کو ریشم، سونے اور چیتے کی کھالوں کے پالان استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17185]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، بقية يدلس تدليس التسوية، ولم يصرح بالتحديث فى جميع طبقات الإسناد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، بقية يدلس تدليس التسوية، ولم يصرح بالتحديث فى جميع طبقات الإسناد
حدیث نمبر: 17186 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيُّ ، يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ ، الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ الْكِنَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مَلَأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، حَسْبُ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثُ طَعَامٍ، وَثُلُثُ شَرَابٍ، وَثُلُثٌ لِنَفْسِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن آدم نے پیٹ سے زیادہ بدترین کسی برتن کو نہیں بھرا، حالانکہ ابن آدم کے لئے تو اتنے لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھ سکیں، اگر زیادہ کھانا ہی ضروری ہو تو ایک تہائی کھانا ہو، ایک تہائی پانی ہو اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17186]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، إن صح سماع يحيى ابن جابر من المقدام بن معدي كرب فالحديث صحيح، وإلا فمنقطع
الحكم: رجاله ثقات، إن صح سماع يحيى ابن جابر من المقدام بن معدي كرب فالحديث صحيح، وإلا فمنقطع
حدیث نمبر: 17187 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ، إَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ، إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ، إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے کہ اپنی ماؤں کے ساتھ، اپنے باپوں کے ساتھ اور درجہ بدرجہ قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17187]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 17188 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَرِيزٌ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيَّ ، قَالَ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَتَوَضَّأَ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے وضو کیا، دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، چہرے کو تین مرتبہ دھویا، دونوں بازوؤں کو تین تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا پھر سر کا اور کانوں کا ظاہری اور باطنی حصوں کا مسح کیا اور تین تین مرتبہ دونوں پاؤں دھو لیے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17188]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف لنكارة فيه، فالصحيح أن المضمضة والاستنشاق إنما تكونان عقب غسل اليدين
الحكم: حديث ضعيف لنكارة فيه، فالصحيح أن المضمضة والاستنشاق إنما تكونان عقب غسل اليدين
حدیث نمبر: 17189 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، بَقِيَّةُ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ، وَعَمْرُو بْنُ الْأَسْوَدِ، إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ: أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ؟ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَتُرَاهَا مُصِيبَةً؟ فَقَالَ: وَلِمَ لَا أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِهِ، وَقَالَ:" هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ" ، رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن اسود رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے علم میں ہے کہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے ہیں؟ یہ سنتے ہی سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا آپ اسے عظیم مصیبت سمجھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں؟ جب کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھا کر فرمایا تھا کہ یہ مجھ سے ہے اور حسین علی سے ہے (رضی اللہ عنہ)۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17189]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، بقية بن الوليد يدلس ويسوي، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد يدلس ويسوي، وقد عنعن
حدیث نمبر: 17190 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاسِطًا يَدَيْهِ، يَقُولُ: " مَا أَكَلَ أَحَدٌ مِنْكُمْ طَعَامًا فِي الدُّنْيَا خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان نے اللہ کی نگاہوں میں اپنے ہاتھوں کی کمائی سے زیادہ محبوب کوئی کھانا نہیں کھایا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17190]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن