بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث غضَیفِ بنِ الحَارِثِ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 16967 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَوْ الْحَارِثِ بْنِ غُضَيْفٍِ، قَالَ: مَا نَسِيتُ مِنَ الْأَشْيَاءِ مَا نَسِيتُ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں، ہر چیز ہی بھول جاؤں (ممکن ہے) لیکن میں یہ بات نہیں بھول سکتا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16967]
حکم دارالسلام
حديث حسن، راجع ما قبله
الحكم: حديث حسن، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 16968 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍ ، مُعَاوِيَةُ ، يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، الْحَارِثِ بْنِ غُضَيْفٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ غُضَيْفٍ ، أَوْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: مَا نَسِيتُ مِنَ الْأَشْيَاءِ لَمْ أَنْسَ أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَاضِعًا يَمِينَهُ عَلَى شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں، ہر چیز ہی بھول جاؤں (ممکن ہے) لیکن میں یہ بات نہیں بھول سکتا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پہ رکھے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16968]
حکم دارالسلام
أثر إسناده حسن، وإبهام المشيخة لا يضر
الحكم: أثر إسناده حسن، وإبهام المشيخة لا يضر
حدیث نمبر: 16969 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، الْمَشْيَخَةُ ، غُضَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنِي الْمَشْيَخَةُ ، أَنَّهُمْ حَضَرُوا غُضَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ الثُّمَالِيَّ حِينَ اشْتَدَّ سَوْقُهُ، فَقَالَ: هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ يس؟ قَالَ: فَقَرَأَهَا صَالِحُ بْنُ شُرَيْحٍ السَّكُونِيُّ، فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ مِنْهَا قُبِضَ، قَالَ: وَكَانَ الْمَشْيَخَةُ يَقُولُونَ: إِذَا قُرِئَتْ عِنْدَ الْمَيِّتِ خُفِّفَ عَنْهُ بِهَا ، قَالَ صَفْوَانُ: وَقَرَأَهَا عِيسَى بْنُ المَعْمَر عِنْدَ ابْنِ مَعْبَدٍ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
متعدد مشائخ سے مروی ہے کہ وہ سیدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے مرض الموت میں) موجود تھے، جب ان کی روح نکلنے میں دشواری ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ تم میں سے کسی نے سورہ یٰسین پڑھی ہے؟ اس پر صالح بن شریح سکونی سورہ یٰسین پڑھنے لگے، جب وہ اس کی چالیسویں آیت پر پہنچے تو ان کی روح قبض ہو گئی اس وقت سے مشائخ یہ کہنے لگے کہ جب میت کے پاس سورہ یٰسین پڑھی جائے تو اس کی روح نکلنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔ صفوان کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن معتمر نے بھی ابن معبد کے پاس سورہ یٰسین پڑھی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16969]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن عبدالله، وبقية بن الوليد مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر بن عبدالله، وبقية بن الوليد مدلس، وقد عنعن، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16970 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، بَقِيَّةُ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ ، غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الثُّمَالِيِّ، قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ ابْنُ مَرْوَانَ، فَقَالَ: يَا أَبَا أَسْمَاءَ، إِنَّا قَدْ جْمَعْنَا النَّاسَ عَلَى أَمْرَيْنِ، قَالَ: وَمَا هُمَا؟ قَالَ: رَفْعُ الْأَيْدِي عَلَى الْمَنَابِرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْقَصَصُ بَعْدَ الصُّبْحِ، وَالْعَصْرِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُمَا أَمْثَلُ بِدْعَتِكُمْ عِنْدِي، وَلَسْتُ مُجِيبَكَ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُمَا، قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلُهَا مِنَ السُّنَّةِ" ، فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا غضیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے پاس عبدالملک بن مروان نے پیغام بھیجا کہ اے ابواسماء! ہم نے لوگوں کو دو چیزوں پر جمع کر دیا ہے پوچھا: کون سی چیزیں؟ اس نے بتایا کہ جمعہ کے دن منبر پر رفع یدین کرنا اور نماز فجر اور عصر کے بعد وعظ گوئی، سیدنا غضیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ دونوں چیزیں تمہاری سب سے مثالی بدعت ہیں، میں تو ان میں سے ایک بات بھی قبول نہیں کرتا عبدالملک نے وجہ پوچھی تو فرمایا: وجہ یہ ہے کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے: جو قوم کوئی بدعت ایجاد کرتی ہے، اس سے اتنی ہی سنت اٹھا لی جاتی ہے، لہٰذا سنت کو مضبوطی سے تھامنا بدعت ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 16970]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد