مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمَ بْنَ عَمْرٍو الْبَجَلِيَّ ، رَجُلٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عَمْرٍو الْبَجَلِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِينَ سَأَلُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالُوا لَهُ: إِنَّمَا أَتَيْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا، وَعَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَعَنِ الرَّجُلِ مَا يَصْلُحُ لَهُ مِنَ امْرَأَتِهِ إِذَا كَانَتْ حَائِضًا، فَقَالَ: أَسُحَّارٌ أَنْتُمْ؟! لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ، فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ"، وَقَالَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ:" يَغْسِلُ فَرْجَهُ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا"، وَقَالَ فِي الْحَائِضِ:" لَهُ مَا فَوْقَ الْإِزَارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ کچھ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ ہم آپ سے تین سوال پوچھنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔ گھر میں نفلی نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ غسل جنابت کا کیا طریقہ ہے؟ اگر عورت ”ایام“ میں ہو تو مرد کے لئے کہاں تک اجازت ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ لوگ بڑے عقلمند محسوس ہوتے ہیں، میں نے ان چیزوں سے متعلق جب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کیا تھا، اس وقت سے لے کر آج تک مجھ سے کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا جو آپ لوگوں نے پوچھا ہے اور فرمایا کہ انسان گھر میں جو نفلی نماز پڑھتا ہے تو وہ نور ہے اس لئے جو چاہے اپنے گھر کو منور کر لے، غسل جنابت کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا پہلے اپنی شرمگاہ کو دھوئے، پھر وضو کرے اور پھر اپنے سر پر تین مرتبہ پانی ڈال کر حسب عادت غسل کرے اور ایام والی عورت کے متعلق فرمایا کہ ازار سے اوپر کا جتنا حصہ ہے، مرد اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 86]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه عاصم. وقوله : يغسل فرجه ثم يتوضأ .... له ما فوق الازار صحيح بالشواهد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرجل الذى روى عنه عاصم. وقوله : يغسل فرجه ثم يتوضأ .... له ما فوق الازار صحيح بالشواهد